کورونا کے پھیلاؤ میں رکاوٹ، صوبہ سندھ میں 15 دن کے لئے لاک ڈاؤن کا آغاز

کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں رکاوٹ کے لئے سندھ حکومت نے اہم قدم اٹھالیا اور صوبے بھر میں پندرہ دن کے لئے لاک ڈاؤن کا آغاز ہوگیا۔

شہریوں کے بلا ضرورت گھر سے نکلنے پر پابندی، صرف کریانہ اور میڈیکل اسٹورز کھلے رہیں گے۔ سرکاری اور نجی دفاتر بھی بند کر دیئے گئے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سندھ حکومت نے فیصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا۔ سرکاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی ادارے ضرورت کے تحت نکلنے والوں کو نہ روکیں تاہم کسی کو غیر ضروری طور پر گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آیا۔ عوام نے ساتھ نہ دیا تو محنت رائیگاں جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کریں گے، تمام یوٹیلیٹی سروسز، پانی، بجلی، گیس اور کیبل کی سہولیات جاری رہیں گی۔ بینک اپنا کام جاری رکھیں، مگر کم عملے پر اکتفا کریں۔
کیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک کو خصوصی ہدایتیں بھی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بجلی کے پانچ ہزار روپے والے بل کو 10 مہینوں کی قسطوں میں وصول کیا جائے جبکہ گیس کے 2 ہزار روپے کے بل پر بھی عوام کو اگلے دس ماہ کا ریلیف دیا جائے۔

مراد علی شاہ نے مخیر حضرات سے کورونا فنڈز میں امداد کرنے کی اپیل کی اور صوبے میں کورونا وائرس ٹیسٹ کے لئے مزید اقدامات کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: عوام لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کریں، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کی اپیل

دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جیسےدہشت گردی کا مقابلہ کیا ویسے ہی کرونا کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں