کورونا وائرس کے معاملے پر پاک فوج پوری طرح متحرک ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ‘موجودہ صورتحال میں افواج پاکستان پوری طرح متحرک ہے اور صوبوں اور وفاق کے ساتھ کام کر رہی ہے جبکہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘جہاں ضرورت ہے وہاں سول انتظامیہ کی بھرپور مدد کی جارہی ہے اور جہاں ضرورت ہے وہاں قرنطینہ کیلئے بھی مدد کی جارہی ہے، آرمی چیف نے تمام فارمیشنز کو ہر ممکن مدد کی ہدایت کی ہے اور ہم سب نے مل کر اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘قومی کوششوں کی سپورٹ میں میڈیکل ایکشن پلان بنایا ہے، تینوں مسلح افواج کی میڈیکل سہولتوں کو ہر طرح سے تیار کیا گیا ہے، موبائل کمپنیز کے ساتھ مل کر پیغامات عوام تک پہنچائے جارہے ہیں، سوشل میڈیا پر احتیاطی تدابیر پر مشتمل معلومات دی جارہی ہیں، تفتان میں قرنطینہ سینٹر میں پاک فوج کی میڈیکل ٹیم معاونت کر رہی ہے جبکہ داخلی راستوں پر لوگوں کی بھر پور چیکنگ کی جارہی ہے۔’

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ‘لوگوں کو بروقت اور درست معلومات دینا ضروری ہے، عوام کا اعتماد افواج پاکستان کا اثاثہ ہے، صفائی نصف ایمان ہے اور بیماری کے خلاف مؤثر اقدام ہے۔’

معاون خصوصی اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان 

معاون خصوصی اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز متحرک ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر اور معاون خصوصی صحت کے ہمراہ میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ‘کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے تمام صوبائی حکومتیں دن رات محنت سے کام کر رہی ہیں جن پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، وزیر اعظم عمران خان کورونا وائرس کی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ ‘وزیر اعظم نے عوام کے ساتھ ڈی جی خان جاکر قرنطینہ سہولت کا جائزہ لیا اور لوگوں کے مسائل سنے جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ وائرس کے معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز متحرک ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘قوم نے تمام چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، اس وبا کے باعث پاکستان کی معیشت کو بھی جھٹکے لگ رہے ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات پر اثر پڑے گا لیکن وائرس سے پہلے معیشت میں بہتری آگئی تھی، معیشت پر کورونا کے ممکنہ اثرات کے جائزے کے لیے مشیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ہے جس نے توجہ رکھی ہے کہ معیشت کی گاڑی سست نہ ہو۔’

یہ خبر بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 377 ہوگئی، 2 افراد زندگی کے بازی ہار گئے

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ‘حکومت کی ترجیح ہے کمزور طبقے کو کیسے سہارا دیا جائے، کوشش ہے کہ محنت کشوں کیلئے اقدامات اٹھائیں، اس سلسلے میں تین نکات پر کام کیا جارہا ہے، کمیٹی مالی امور سے متعلق پیکج وزیر اعظم کو پیش کرے گی، مٹھی بھر عناصر ایسی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے ذخیرہ اندوزی کا سہارا لیتے ہیں، وزیر اعظم نے ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کردی ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘حکومت نے اپنی ذمہ داری میں کوئی کوتاہی نہیں کی، وزیر اعظم نے پیغام دیا کہ ہم نے کورونا وائرس کا مل کر مقابلہ کرنا ہے اور کسی قسم کی کوتائی یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی، عوام کو بار بار تاکید کی جا رہی ہے کہ پرہجوم اجتماعات میں نہ جائیں، پاکستان میں خوراک کی کمی نہیں اس لیے عوام غیر ضروری چیزیں ذخیرہ کرنے سے اجتناب کریں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں اور سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول کا پلیٹ فارم بنایا گیا ہے۔’

عوام مصافحہ کرنے، گلے ملنے سے گریز کریں، ظفر مرزا

معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘176 ممالک میں کورونا وائرس کے مریض رپورٹ ہو چکے ہیں جو تشویشناک امر ہے اور دنیا میں کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 20 ہزار ہے، تاہم مشکل صورتحال میں قوم متحد ہے اور جب بھی پاکستان پر کوئی مشکل پڑی عوام نے بھرپور ساتھ دیا۔’

انہوں نے کہا کہ ‘چین نے جس طرح اس وبا پر قابو پایا اس کی مثال نہیں ملتی، صدر مملکت کے دورہ چین کے دوران صحت کے شعبے میں بہتری پر بات ہوئی، آئندہ چند روز میں چینی ماہرین کے ساتھ وڈیو کانفرنسز شروع کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے پاکستان میں کورونا وائرس کے 326 مریضوں اور 2 اموات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘اب نیشنل ڈیش بورڈ بن گیا ہے جس سے صورتحال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔’

انہوں نے عوام سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ‘مصافحہ کرنے اور گلے ملنے سے پرہیز کیا جائے، ہسپتالوں میں بلا ضرورت نہ جائیں اور بوقت ضرورت مریض کے ساتھ ایک شخص او پی ڈی میں جائے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں