بھارت مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے پیش نظر پابندیاں جلد ختم کرے، پاکستان کا بڑا مطالبہ

پاکستان نے بھارتی حکومت سے مقبوضہ جموں و کشمیر سے کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے پر وہاں لگائی گئی رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کی ترجمان ڈاکٹر عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ پابندیوں کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ مقبوضہ وادی میں کیسز کی تعداد معلوم ہوسکے اور انہیں ضروری اجناس اور ادویات فراہم کی جاسکیں۔

ترجمان نے جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیری عوام پر غیر انسانی سلوک کی مذمت بھی کی۔

انہوں نے بھارتی حکومت کی جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کے منافی ہے۔

کورونا وائرس

کورونا وائرس سے احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے دفتر خارجہ نے 18 مارچ سے 3 اپریل تک کے لیے واک ان قونصلر سروسز سوائے پاور آف اٹرنی کی تصدیق کے، معطل کردیں جبکہ اس عرصے کے دوران دستاویزات کی تصدیق کوریئر کمپنیوں کے ذریعے جاری رہیں گی۔

عائشہ فاروقی نے بتایا کہ ان کی وزارت نے بحران سے نمٹنے کے لیے کرائسز مینیجمنٹ یونٹ قائم کیا ہے جس کی نگرانی خصوصی سیکریٹری (انتظامیہ) کریں گے جو پاکستان اور بیرون ملک ہمارے سفیروں کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلی پاکستانی برادری سے رابطے میں رہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کرائسز مینیجمنٹ یونٹ کا ہاٹ لائن نمبر آج ہماری ویب سائٹ پر جاری کردیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سفارتخانے اور قونصلیٹس نے 24 گھنٹے بحال رہنے والی ہاٹ لائن بنائی ہے اور اوورسیز برادری کو ان کے ممالک میں سہولیات فراہم کرنے کے لیے فوکل پرسنز نامزد کردیے ہیں جس کی تمام تفصیلات وزارت کی ویب سائٹ پر آج جاری کردی جائیں گی۔

انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو غیر ضروری سفر نہ کرنے کی تجویز دی اور اپنی حفاظت کے تحت سماجی دوری اپنانے پر زور دیا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 332 تک پہنچ چکی ہے جبکہ وائرس سے اب تک ملک میں 2 افراد کی موت بھی ہوچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں