’ٹک ٹاک ڈیڈی‘ سے بچوں کی تحویل کے لیے خاتون کا عدالت سے رجوع

خاتون نے اپنے شوہر کو ’ٹک ٹاک ڈیڈی‘ کا نام دے دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ جو اس سوشل میڈیا ایپ پر ویڈیوز پوسٹ کرنے کا شوقین ہے اور اپنے ساتھ ساتھ دونوں بچوں کو بھی اس ایپ کا عادی بنا رہا ہے۔

خاتون نے عدالت کو بتایا کہ ان کے شوہر کا نام وحید مراد ہے جو چار شادیاں کرچکا ہے اور وہ اس کی تیسری بیوی ہے۔

خاتون کے مطابق اس کے شوہر کے 13 بچے ہیں اور اس نے ان چاروں شادیوں کے علاوہ پہلے بھی دو شادیاں کی تھی جبکہ دونوں کو طلاق دے دی۔

فیملی کورٹ کے جج سمیع اللہ خان نے خاتون کی استدعا کے بعد وحید مراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 اپریل کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

خاتون نے فیملی کورٹ میں ایڈووکیٹ سیف اللہ محب کاکاکھیل اور مہوش محب کاکاکھیل کے توسط سے درخواست دائر کی۔

خاتون نے اپنے شوہر پر الزام لگایا کہ وہ شادیاں کرنے کے بعد اپنی بیویوں اور بچوں کا خیال نہیں رکھتا بلکہ صرف ان کی دیکھ بھال کرتا ہے جو اس کی طرح ٹک ٹاک ویڈیوز بناتے ہیں۔

خاتون کے مطابق اس کے دونوں بیٹے بھی والد کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے لگے، جس کے بعد شوہر نے دونوں کی تعلیم روک دی اور انہیں ٹک ٹاک پر فوکس کرنے کو کہا۔

خاتون کے وکیلوں کے مطابق ان کے شوہر کو ٹک ٹاک پر ایک لاکھ 14 ہزار افراد فالو کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دکھ کی بات ہے کہ اس شخص کا نام پاکستان کے نامور اداکار اور چاکلیٹی ہیرو کہلائے جانے والے وحید مراد کے نام پر ہے۔

خاتون نے اپنی شکایت میں کہا کہ ان کا شوہر نہ تو خاتون کا خیال رکھتا ہے اور نہ ہی بچوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

خاتون نے الزام لگایا کہ شوہر بچوں کو اسکول بھیجنے پر اسے مارتا بھی تھا جبکہ اب وہ اس کے 2 اور 7 سالہ بیٹوں کو ٹک ٹاک ویڈیوز میں اداکاری کے لیے دور بھی لے گیا۔

اپنی درخواست میں خاتون نے مزید کہا کہ شوہر نے دونوں بیٹوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی قرآنی تعلیم بھی روک دی ہے۔

خاتون نے عدالت سے درخواست کی کہ شوہر کو اس کی اور بچوں کی دیکھ بھال کا حکم دیا جائے اور دونوں بیٹوں کی تحویل بھی اسے دی جائے تاکہ وہ انہیں اسکول بھیج سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں