“عدالتیں تو حالت جنگ میں بھی بند نہیں ہوتیں” چیف جسٹس کا حکومت کے خط پر سخت ردعمل

چیف جسٹس پاکستان نے کورونا وائرس کے باعث عدالتیں بند کرنے کی وزارت قانون کی تجویز پر ریمارکس دیے کہ عدالتیں تو حالت جنگ میں بھی بند نہیں ہوتیں، اپنا کام کیا نہیں اور ہمیں کہتے ہیں عدالتیں بند کردیں۔

وزارتِ قانون نے گزشتہ روز ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھا تھا جس میں سول کیسز کی سماعت کم از کم تین ماہ کے لیے ختم کرنے اور عدالتیں کارروائی بھی کچھ عرصے کے لیے بند کرنے تجویز دی گئی تھی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پی آئی اے کے سی ای او کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وزارت قانون کے خط کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کورونا وائرس کے باعث وزارتِ قانون کی عدالتیں بند کرنے کی تجویز کی مخالفت کی۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ہم تو عدالتی کام کے لیے یہاں موجود ہیں، حکومت نے کورونا سے متعلق کوئی اقدام نہیں کیا، ہمیں کہہ دیا کہ عدالتی کام روک دیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان میں 18 مزید کیسز کی تصدیق، مریضوں کی تعداد 263 ہو گئی

معزز چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتیں تو حالت جنگ میں بھی بند نہیں ہوتیں، اپنا کام کیا نہیں اور ہمیں کہتے ہیں عدالتیں بند کردیں۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے مزید ریمارکس دیے کہ یہ کورونا وائرس بیرون ملک سے بذریعہ ائیرپورٹ آیا، یہ پی آئی اے اور حکومت کی نااہلی سے ہوا، اس وقت ہر جگہ ملک میں کورونا کی بات ہو رہی ہے، اگر سیکیورٹی کا یہ حال رہا تو کون سی بیماریاں ملک میں آجائیں گی۔

ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کا اجلاس طلب

وزارت قانون کی تجویز پر چیف جسٹس پاکستان نے تمام ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کا اجلاس کل طلب کررکھا ہے جس میں اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث حکومت نے حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند 5 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں