سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس: نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کے حکم امتناع میں توسیع

لاہورہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کے حکم امتناع میں توسیع کر دی، عدالت نے حکومت پنجاب کی جانب سے جواب داخل نہ کرنے پر چیف سیکرٹری کو تمام متعلقہ افسران سمیت طلب کرلیا۔

لاہورہائیکورٹ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔

درخواست گزاروں کی جانب سے موقف اختیارکیاگیاہے کہ نئے جے آئی ٹی کی تشکیل غیرقانونی ہے۔ حکومت کی جانب سے نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے سمری عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاوَن کے مجرموں کا فیصلہ تو بعد میں ہوگا، سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مقتولین کے ورثاسے حکومت کھلواڑ کررہی ہے، لگتا ہے حکومت اس کیس کی کارروائی میں سنجیدہ ہی نہیں ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں ملزمان فیصلہ چاہتے ہیں حکومت کو دلچسپی نہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پہلی جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔

جسٹس قاسم خان نے کہا کہ آپ کی پیش کی گئی رپورٹ مصدقہ نہیں ہے، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اتنا بے بس ہو گیا ہے اللہ ہی مہربانی کرے، عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو 10 فروری کو طلب کر تے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں