گندم بحران کی ذمہ دار کون؟ وزیر زراعت سندھ محمد اسماعیل راہو کا اہم بیان سامنے آگیا۔

وزیر زراعت سندھ محمد اسماعیل راہو نے ملک میں آٹے کی قیمت میں اضافے اورگندم کےبحران کاذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 40 ہزار میٹرک ٹن گندم پڑوسی ملک افغانستان کونہ بھیجی جاتی تو ملک میں بحران پیدا نہ ہوتا۔

اسماعیل راہو نے کہا کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا سبب وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیاں ہیں، یہ سب مہنگائی کے سونامی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں گندم کا بحران نہیں ہے ہم فلورملزمالکان کو آٹے کی قیمت میں اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

وزیر زراعت نے بتایا کہ کراچی میں آٹے کی سرکاری قیمت 45روپے فی کلو ہے، صوبے میں آٹامہنگا فروخت کرنے والوں کے خلاف تمام ڈپٹی کمشنرز کو کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں فلورملز مالکان اور دکانداروں نے سرکاری قیمت پر عمل نہ کیا تو ملیں اور دکانیں سیل ہونگی۔

محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ڈیڑھ سال میں مہنگائی پر کوئی کنٹرو ل نہیں کیا، وفاقی حکومت عوام سے بھاری ٹیکسز لینے کے باوجود مہنگائی کم نہ کرسکی۔

ان کاکہنا تھا کہ جس حکومت میں عوام کو ریلیف دینے کی صلاحیت نہ ہو اس کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں، چند لوگوں کو خوش کرنے کے لیے عوام کو لوٹا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں