سندھ کے صوبائی وزیر امتیاز شیخ پر ایسا بڑا الزام کہ ہر کوئی ششدر رہ گیا

ایس ایس پی شکارپور کی پورٹ میں صوبائی وزیر امتیاز شیخ پر سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

شکار پور میں جرائم پیشہ عناصر سے متعلق ایس ایس پی کی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ امن و امان خراب کرنے کے ذمہ دار سردار اور بااثر سیاسی افراد ہیں، صوبائی وزیر امتیاز احمد شیخ جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرتے ہیں۔

رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ امتیاز شیخ سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے کرمنل ونگ کا استعمال کرتے ہیں، انھوں نے جرائم پیشہ عناصر کے ذریعے سیاسی مخالف شاہنواز بروہی کے بیٹے کو قتل کرایا۔

پولیس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امتیاز شیخ پولیس میں اہم عہدوں پر من پسند افسران تعینات کراتے ہیں جس کی وجہ سے پولیس کے کئی خفیہ آپریشن انفارمیشن لیک ہونے کے باعث ناکام ہوئے۔

رپورٹ میں امتیاز شیخ کے بھائی مقبول شیخ اور بیٹے فراز شیخ کا جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کا ریکارڈ بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں امتیاز شیخ اور کرمنلز کے درمیان رابطے کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔

ایس ایس پی شکارپور کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امتیاز شیخ اور ڈکیت اتو شیخ کے درمیان متعدد بار رابطے ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے امتیاز شیخ، ان کے بیٹے فراز شیخ اور بھائی مقبول شیخ کے خلاف کارروائی کی شفارش بھی کی۔

دوسری جانب صوبائی وزیرامتیاز شیخ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ قانونی مشاورت کے بعد کارروائی کریں گے اور ہم پر جو الزامات لگے ہیں اس کا ریکارڈ مانگیں گے۔

امتیاز شیخ کا کہنا ہے کہ میرے خلاف شکارپور سے کسی بھی پولیس افسر کی جانب سے کوئی رپورٹ ہوئی تو بتادیں، اگر میں کریمنل ہوتا تو عوام مجھے منتخب نہ کرتے، پولیس میں نا اہل اور کرپٹ افسران لگیں گے تو امن و امان صورتحال خراب ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ شکار پور ضلع پیٹرول کی چوری کے لیے مشہور ہے، ہم نے اس کی نشاندہی کی تو برے بن گئے، ہم اس معاملے کوایسے نہیں چھوڑیں گے،منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں