قرآن کریم کی حرمت کا تقاضا ہے کہ اس مقدس ترین کتاب کو سیاسی معاملات کےبیچ میں نہ لایا جائے، بڑا ردِ عمل بھی سامنے آگیا

 قرآن کریم کی حرمت کا تقاضا ہے کہ اس مقدس ترین کتاب کو سیاسی معاملات کےبیچ میں نہ لایا جائے، بڑا بیان سامنے آگیا۔

پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ قرآن کریم کی حرمت کا تقاضا ہے کہ اس مقدس ترین کتاب کو سیاسی معاملات کےبیچ میں نہ لایا جائے،سپیکر قومی اسمبلی کو چاہئے کہ وہ اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ کسی بھی حوالے سے یا کسی بھی طور پر قرآن پاک کے تقدس اور حرمت پر حرف نہ آئے۔

تفصیلات کے مطابق چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قرآن مجید کو جس طرح موضوع بحث بنایاجا رہاہےاورقرآنی آیات کواپنےمقاصد کیلئےاستعمال کیاجارہاہے وہ مناسب نہیں ہےکیونکہ کل کو یہ نہ ہو کہ جیسے بجٹ اجلاس کے موقع پر بجٹ دستاویزات کو پھاڑکرپھینک دیاجاتاہےاس طرح کہیں قرآن کریم کی بےحرمتی بھی نہ کر دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ کسی بھی جانب سے قرآن مجید کو سیاسی معاملات کے بیچ میں نہ لایا جائے تاکہ اس مقدس ترین کتاب کی حرمت برقرار رہے، سپیکر قومی اسمبلی کو اس سلسلہ میں سخت ترین اقدام سے بھی گریز نہیں کرنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں