نوازشریف کو علاج کے لیے دی گئی مہلت ختم ہوگئی، ہمیں رپورٹ بھیجیں، یاسمین راشد

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا ہے کہ نوازشریف کو علاج کے لیے دی گئی مہلت ختم ہوگئی اگر ان کی طبیعت بہتر ہے تو ہمیں رپورٹ بھیجیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ نوازشریف کی سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ویڈیو سب نے دیکھی ہے، انہیں علاج معالجے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی، ان کو دی جانے والی مہلت 25 دسمبر کو ختم ہو گئی تھی۔

یاسمین راشد نے بتایا کہ ہمیں خط بھیجا گیا جس میں نوازشریف کو لاحق مختلف بیماریوں کا علاج کرایا گیا، ہم نے کل دیکھا وہ ریسٹورینٹ میں بیٹھے چائے پی رہے ہیں جس کےبعد نواز شریف کے ذاتی معالج کو فون کیا اور کہا کہ ایک طرف آپ کہتے ہیں نوازشریف کی حالت بہت خراب ہیں اور انہیں فالج کا اندیشہ ہے۔

وزیر صحت پنجاب نے بتایا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ نوازشریف لندن میں علاج کروارہے ہیں، اگر ان کی طبیعت بہتر ہوگئی ہے تو ہمیں رپورٹ بھیجیں، ہمیں کوئی معلومات نہیں لندن میں کیا علاج ہورہا ہے، ہمیں بتایا جائے کہ کیا سیر سپاٹے بھی علاج کا حصہ ہیں؟

یاسمین راشد نے مزید کہا کہ ایک طرف بیٹی ابا کی تیمارداری کے لیے درخواست دے رہی ہے کیا وہ ابا کی ریسٹورینٹ میں بیٹھ کر تیمارداری کریں گی؟ یہ لوگ ہمیں سب رپورٹیں نہیں بھیج رہے، جو انہوں نے بھیجا اس میں کوئی نئی بات نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 6 ہفتے میں کوئی کچھ نہیں ہوا تو کیوں نہیں ہوا، پھر کس بنیاد پر آپ مزید توسیع کے لیے درخواست دے رہے ہیں، ہمارے لیے بہت پریشانی کی بات ہے، آپ علاج کے لیے گئے ہیں، آپ سزا یافتہ ہیں، ہم نے اس لیے ریلیف دیا کہ آپ اپنا علاج کرائیں اور واپس آئیں، یہ بہت تشویشناک بات ہے آپ علاج کا کہہ کرگئے، لگتا ہے علاج نہیں کرارہے، اگر علاج ہوتا تو کچھ نہ کچھ نتیجہ بھیجتے۔

یاسمین راشد نے بتایا کہ ڈاکٹر عدنان کو کہا ہےکہ جو کچھ ہورہا ہے تحریری طور پر بھجوائیں، ہوا خوری ریسٹورینٹ میں کب ہوتی ہے؟ ایک بندہ جسے کہا گیا کہ اسے فالج کا اندیشہ ہے اس وقت ان کے معالج کو ساتھ ہونا چاہیے، یہاں کہتے تھے انہیں ابھی کچھ ہوجائے گا، کیا ریسورینٹ کی آب و ہوا بہت اچھی تھی؟ یا وہ خاص ہوا والی ریسٹورینٹ تھی جہاں نوازشریف گئے؟

واضح رہے کہ گزشتہ روز نوازشریف کی لندن کے ایک ریسٹورینٹ سے تصویر سامنے آئی تھی جس میں وہ شہبازشریف اور دیگر کے ہمراہ موجود تھے، تصویر سامنے آنے کے بعد حکومتی حلقوں کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں