میاں نواز شریف ریسٹورنٹ کیوں گئے تھے؟ نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے بڑا بیان جاری کر دیا، ملکی سیاست میں ہلچل

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے ان کے والد کا علاج جاری ہے اور اتوار کو خاندان کے افراد کے کہنے پر میاں نواز شریف ہوا خوری کے لیے اپارٹمنٹ سے باہر آئے ان کی چہل قدمی پر بھی سیاست کی جارہی ہے جو نہایت افسوسناک ہے ۔

لندن میں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز نے کہا کہ اتوار کے روز میاں نواز شریف کو شام 5 بجے ایک ریسٹورنٹ میں لے جایا گیا تھا۔ گزشتہ 2 ماہ سے ان کا لندن میں علاج جاری ہے جس کے باعث وہ ہسپتال اور گھر تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، چونکہ اب کرسمس کی چھٹیاں ہیں اس لیے ان کا ہسپتال جانا بھی بند ہوگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم کی جو رپورٹس جمع کرائی گئی ہیں ان میں بھی ڈاکٹرز نے یہ لکھا ہے کہ انہیں مختصر واک کرنی چاہیے۔ واک کی وجہ سے میاں صاحب کی سانس پھول جاتی ہے اس لیے ایسا ہو نہیں سکتا۔

حسین نواز کے مطابق کل اتوار تھا اس لیے خاندان کے افراد نے زور دیا کہ میاں نواز شریف کو باہر نکلنا چاہیے، فیملی کے اصرار پر وہ باہر جانے کو رضا مند ہوئے۔ ’ہوا خوری کیلئے لے کر گئے جس کے بعد واپس لے آئے، یہ بھی علاج کا حصہ ہے، یہ بہت افسوسناک ہے کہ اس کو سیاسی رنگ دے دیا گیا ہے۔‘

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں انہیں خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس تصویر کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین سے جواب طلبی کی تھی۔ دوسری جانب ڈاکٹر یاسمین راشد نے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سے رابطہ کرکے سابق وزیر اعظم کی میڈیکل رپورٹس منگوالی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں