گرفتار لیگی رہنما احسن اقبال کو کیوں نائٹ کلب کا ذکر کرنا پڑا؟ احتساب عدالت کے جج سے مکالمہ، تہلکہ مچادیا

نارووال اسپورٹس کمپلیکس سٹی منصوبے میں گرفتار لیگی رہنما احسن اقبال نے جج احتساب عدالت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک نارووال اسپورٹس کمپلیکس نہیں، 10 اور کمپلیکس بننے چاہئیں، میں نے اسپورٹس کمپلیکس بنایاہے کوئی نائٹ کلب نہیں بنایا۔

لیگی رہنما نے کہا کہ پیپلزپارٹی دور میں 932 ملین کا پراجیکٹ اناﺅنس ہوا، پیپلزپارٹی دور میں ہم نے نارووال شہر کا نہیں کہاتھا، یہ ایک کھنڈر تھا اور اس کو ہم نے مکمل کیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ ایسے بہت سے منصوبے ہیں جن میں وفاقی حکومت مدد کرتی ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد لیگی رہنما کے جسمانی ریمانڈ میں مزید7 روز کی توسیع کردی۔ احتساب عدالت میں نارووال اسپورٹس کمپلیکس سٹی منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، نیب نے احسن اقبال کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کردیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے لیگی رہنما کے ریمانڈ میں مزید14 روز کی توسیع کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہاحسن اقبال اقامے کی بنیاد پر ملازمت کرتے رہے، احسن اقبال کے خلاف تحقیقات کرناچاہتے ہیں، دستاویزات بہت زیادہ ہیں ،مزید وقت درکارہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ احسن اقبال اپنے علاقے کو نوازنا چاہتے تھے ،احسن اقبال نے اپنی خواہش کیلئے سرکاری خزانہ لٹادیا۔ احسن اقبال کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ کی مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کردی۔ احسن اقبال نے جج اعظم خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک نارووال اسپورٹس کمپلیکس نہیں،10 اورکمپلیکس بننے چاہئیں، میں نے اسپورٹس کمپلیکس بنایاہے کوئی نائٹ کلب نہیں بنایا۔

لیگی رہنما نے کہا کہ پیپلزپارٹی دور میں 932 ملین کا پراجیکٹ اناﺅنس ہوا،پیپلزپارٹی دور میں ہم نے نارووال شہر کا نہیں کہاتھا،یہ ایک کھنڈر تھا اس کو ہم نے مکمل کیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ ایسے بہت سے منصوبے ہیں جن میں وفاقی حکومت مدد کرتی ہے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ ان کا اعتراض ہے کہ پراجیکٹ نارووال میں کیوں بنا؟ کیا نارووال اسرائیل میں ہے یا انڈیا کاحصہ ہے ؟70 سال میں ایسا کوئی پراجیکٹ نہیں ،40 کروڑکابجٹ روک کے پراجیکٹ کوکھنڈر بنادیاہے، جسے اب دوبارہ سیٹ کرنے میں اربوں روپے لگیں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ میں ایک درخواست دینا چاہتا ہوں ،عمران خان کو کیس میں شامل کیاجائے انہوں نے پراجیکٹ کا بجٹ روکا۔ احسن اقبال نے مزیدکہا کہ کرتارپورراہداری میں قوانین کی خلاف ورزی کی گئی نیب خاموش کیوں؟۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد احسن اقبال کو 20جنوری تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں