ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان اتحاد پر سوالات اٹھنے لگے، خالد مقبول کے فیصلے نے واضح کردیا

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ مقبول صدیقی نے وزارت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ ایم کیو ایم کی وفاقی کابینہ میں ایک ہی وزارت تھی جسے چھوڑنے کا اعلان کر دیا گیاہے۔

سربراہ ایم کیوایم مقبول صدیقی کے اعلان کے بعد ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان اتحاد پر سوالات اٹھنے لگے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ ایم کیو ایم پاکستان مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ان کا وزارت میں بیٹھنا بے سود ہے۔ انہوں نے کہا بلاول بھٹو کی آفر کا استعفیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2018ء کے انتخابات کے نتائج ایم کیو ایم تسلیم نہیں کرتی تھی، ایم کیو ایم نے ہمیشہ جمہوری نظام کی حمایت کی ہے، بینظیربھٹو کے دور میں بھی حمایت کی تھی، سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ زیادتی کی ایک تاریخ ہے.

خالد مقبول نے کہا ایم کیو ایم نئے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ حیدر آباد جیسے بڑے شہر میں ایک یونیورسٹی نہیں دے سکے۔ میرے لیے مشکل ہوجاتا ہے کہ وزارت پر بیٹھا رہوں، حکومت بنانے کیلئے ساتھ دیا تھا۔

خالد مقبول صدیقی نے مزید کہاکہ میرا اب وزارت میں رہنا بہت سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ہمارے نقاط پر عمل ہورہا ہوتا تو شاید انتظار کرلیتے۔ حکومت سے تعاون جاری رکھیں گے۔ آج سے ہم وزارتوں پر نہیں بیٹھیں گے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں