جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیان سے حکومتی صفوں میں ہلچل، بڑا اعلان کر دیا

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایسا بیانیہ جاری کر دیا کہ جس نے حکومت کو بھی پریشان کر دیا، مزید جانیے اس خبر میں

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی وحدت سے حکومت کمزور ہوتی ہے اور اگر اپوزیشن بکھر جائے تو حکومت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا، عام انتخابات کے بعد اپوزیشن سیاستدانوں جو نے متفقہ بیانیہ دیا ہمارا وہی بیانیہ چل رہا ہے،ہم آنے والے چند مہینوں میں پھر سے سڑکوں پر آنا چاہتے ہیں۔

لاہورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی جماعت میں ہرسطح پر رابطے میں ہیں اور نئی تحریک کا آغاز پنجاب سے کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قوم کی رائے آزادی مارچ میں سامنے آ گئی، پورے ملک نے ہر صوبہ نے ہمارا استقبال کیا، اپوزیشن کی وحدت سے حکومت کمزور ہوتی ہے اور اگر اپوزیشن بکھر جائے تو حکومت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ ق لیگی قیادت کے ساتھ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا دینی مدارس کو ہر صورت آزاد رکھا جائے گا، دنیا نے مذہبی مدارس کا منفی تاثر دیا ہوا ہے، دینی مدارس ہمارے ملک کی جڑیں ہیں اور وہ کمزور جڑیں نہیں ہے، ہمیں اپنے تعلیمی نصاب پر اطمنیان ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدارس کے نظام کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور ہم مدارس کی آزادی کے حوالہ سے ایک مربوت نظام بنانا چاہتے ہیں۔ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالہ سے ہم یہی سوچتے تھے کہ کسی سرکاری آفیسر کی تقرری کو سیاسی مسئلہ نہیں بنانا چاہیئے لیکن حکومت نے خود ایکسٹینشن کے مسئلہ کوعدلیہ میں گھسیٹا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں