پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ سنانے والے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے بارے میں تفصیلات سامنے آگئی

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ لکھنے والے خصوصی عدالت کے سربراہ اور پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے بارے میں تفصیلات سامنے آگئی ہیں، یادرہے کہ انہوں نے مشرف کیخلاف فیصلہ سنایا تھا تاہم اس کے کئی نکات پر مسلح افواج اور حکومت سمیت کئی حلقوں سے سخت…

انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق جسٹس وقار کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ انہوں نے 1977 میں کینٹ پبلک سکول پشاور سے میٹرک جب کہ ہائیر سیکنڈری تعلیم ایف جی انٹر کالج فار بوائز سے حاصل کی،ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسلامیہ کالج پشاور سے 1981 میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔رپورٹ کے مطابق جسٹس وقار کے گومل یونیورسٹی کے ساتھی اور پشاور کے سینیئر صحافی شمیم شاہد نے بتایا کہ وقار سیٹھ نے ایک سال سے کم عرصہ گومل یونیورسٹی کے شعبہ وکالت میں گزارا۔ وہ اس کے بعد پشاور یونیورسٹی کے لا کالج چلے گئے اور وہاں سے 1985 میں لا کی ڈگری حاصل کی۔

شمیم شاہد کے مطابق انہوں نے ہمیشہ وقار سیٹھ کو خاموش طبعیت دیکھا اور وہ کبھی بھی زمانہ طالب علمی میں سیاست میں سرگرم نہیں رہے۔ ’وقار سیٹھ سکول کے زمانے سے پشاور میں رہے اور ڈگری مکمل کرنے کے بعد شہر کی پیر بخش عمارت میں ان کا دفتر تھا، جن کے ساتھ ہی میرا دفتر بھی واقع تھا۔‘وقار احمد سیٹھ 1985 میں ذیلی عدالتوں کے وکیل بنے، 1990 میں پشاور ہائی کورٹ اور پھر 2008 میں بطور ایڈووکیٹ وکالت کا آغاز کیا۔

ادھر وقار سیٹھ کے بارے میں صحافی مطیع اللہ جان نے لکھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ بطور وکیل مزدوروں کی مقدمات لڑتے اور ان سے خود کبھی فیس نہ طلب کرتے تھے، کیس جیتنے پر کوئی مزدور استطاعت رکھتا تو فیس دیتا وگرنہ دعا دے کر ہی چلا جاتا۔

پشاور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر جسٹس وقار سیٹھ کی درج پروفائل میں لکھا گیا ہے کہ وہ 2011 میں بینچ کے ایڈیشنل جج بنے اور پشاور ہائی کورٹ میں بینکنگ جج کے حیثیت سے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔اس کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے کمپنی جج بن گئے اور جوڈیشری سروس ٹریبیونل کے رکن کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ آج کل وہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں اور مشرف کیس میں سپیشل کورٹ کے جج تھے۔

رپورٹ کے مطابق صحافی وسیم احمد شاہ نے بتایا کہ انہوں نے جسٹس وقار سیٹھ کو وکیل سے لے کر جج بننے تک دیکھا، وہ کسی سے ڈرنے اور دباؤ لینے والے جج نہیں، وہ بے خوف جج ہیں جو میرٹ پر فیصلے کرتے ہیں اور کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ انہوں نے کوئی فیصلہ سیاسی بنیادوں پر کیا ہو، جسٹس وقار سیٹھ وکالت کے زمانے میں وکلا سیاست سے دور رہے اور کبھی وکلا الیکشن میں حصہ نہیں لیا، وہ میڈیا کی چکا چوند سے بھی دور رہتے ہیں۔

انڈیپنڈنٹ کے مطابق جسٹس وقار سیٹھ کے اہم ترین فیصلوں میں نمایاں فیصلہ 2018 کا فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے 74 مبینہ دہشت گردوں کی سزائیں معطل کرنے کا فیصلہ ہے، یہ کیس اب بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، ایک اور مقدمے میں انہوں نے صوبہ خیبر پختونخوا میں فوج کو زیادہ اختیارات دینے کے خلاف بھی فیصلہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پشاور میں بننے والی بس ریپیڈ ٹرانسٹ (پشاور میٹرو) کے خلاف ایک پیٹیشن میں فیصلہ دیا تھا کہ اس منصوبے کی قومی احتساب بیورو سے تحقیقات کرائی جائیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں بی آرٹی ہی کے حوالے سے ایک اور فیصلے میں انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں