واجد ضیاء کی بطور ڈی جی ایف آئی اے تقرری کے مقاصد کیا ہیں؟  بابراعوان کا چونکا دینے والا انکشاف

پانامہ کیس کی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کی بطور ڈی جی ایف آئی اے تقرری مقاصد سامنے آگئے، تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء بابراعوان نے کہا کہ ایک وزیردفاع کیخلاف اقامہ کیس ہے، اس کیخلاف ایکشن کی کابینہ نے منظور دی ہے،لیکن ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا، دوسرا مقصد زیرالتواء کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔

انہوں نے پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ میں سرمایہ کاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ واجد ضیاء کی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں زیرالتواء کیسز جن کی رفتار سست کردی گئی تھی، ان کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ کچھ معاملات ایسے ہیں جو کابینہ کی منظور ی کے بعد ایف آئی اے کو دیے گئے تھے ، واجد ضیاء کو اندرون بیرون ملک ہیروآف پانامہ کہا جاتا ہے، ان کو دھمکیاں دی گئیں۔

لیکن اس آدمی نے مافیا کیخلاف کیس لڑا۔ منی لانڈرنگ ، پاناما سے بڑا جرم اقامہ ہے، اقامہ اس لیے جرم ہے کہ پاکستان کا وزیراعظم دوسرے ملک میں نوکری کررہا ہے، یہ پاکستان کی توہین ہے۔ایک وزیردفاع کے خلاف اقامہ کی بنیاد پر کچھ نہیں ہورہا تھا، 100دن ہونے کو ہیں،اس کیخلاف ایکشن کی کابینہ نے منظور دی ہے۔ان کیسز کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پانامہ والا نکل گیا ہے۔ان کے جانے سے ایک راستہ کھل گیا ہے، اب آصف زرداری نے بھی عدالت میں درخواست دے دی ہے۔جب ایک کو مرضی کے ڈاکٹرسے علاج کی اجازت ہے تودوسرے کو بھی ملے گی۔ قیدیوں نے اب مرضی کے علاج کیلئے درخواستیں دینا شروع کردی ہیں، کیا ہر کسی کووہ موقع ملے گا جو بڑے سیاستدانوں کو ملتا ہے۔بابراعوان نے کہا کہ ایک کھرب پتی تاجر ہے، اس تاجر کی افریقہ اور آسٹریلیا میں اپنی سونے کی کانیں ہیں، یہ میڈیا ، ٹورازم ،ٹیلی کام، ہاؤسنگ کا بھی بہت بڑا آدمی ہے، ان کانام نجیب ہے۔

انہوں نے اس وقت پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے بیان بھی دیا تھا،جب عمران خان نے ہاؤسنگ کا پراجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ہاؤسنگ پراجیکٹ کے زیرتحت اسلام آباد میں فلیٹ بنائے جارہے ہیں، جن کا اندر سے پلسترہوگیا ہے اور باہر سے ہورہا ہے۔جس کی 2.8بلین امریکی ڈالر کی نیٹ ورتھ ہے، انہوں نے پاکستان میں وزیراعظم سے ملاقات کی ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے لگے ہیں۔

بابراعوان نے کہا کہ واجد ضیاء کی تقرری کے بعد اب کوئی توقع نہ کرے کہ اس کو رعایت مل جائے گی، اب کسی کو رعایت نہیں ملے گی، سب کا بلاتفریق احتساب ہوگا۔ واجد ضیاء کی تعیناتی ان کے لیے پریشانی کا باعث ہے جو منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص ہے جو یہاں سے چلا گیا ہے، وہاں جاکرکھانے کھارہا ہے، شاپنگ کررہا ہے،روز نیا سوٹ پہنتا ہے ضرورپہنے، لیکن ہمارے پیسے ہیں ہمیں اس کی تکلیف ہوتی ہے۔

ایک اور شخص بھی تیاری کیلئے ہے، اس کی تیاری کا اسی ہفتے میں پتا چل جائے گا، انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان اور بھارت کی معیشت کا تقابلی جائزہ پیش کیا تھا، میں نے کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت اٹھ رہی ہے اور انڈیا کی معیشت بیٹھ رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی ریٹنگ کرنے والی ایجنسی موڈیز نے پاکستان اور انڈیا کیلئے ریٹنگ جاری کی ہے، نوازشریف کے دور میں ہم منفی لسٹ یعنی بی تھری سے بھی آگے چلے گئے تھے، لیکن اب پاکستان کوسرمایہ کاری کیلئے مستحکم قراردیا ہے۔

موڈیز نے بھارت کو منفی بی تھری میں ڈال دیا ہے۔ عمران خان عوام کی امید پر پورا اترے گا، آئندہ سالوں میں پاکستان معیشت میں دوڑ رہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ایک ملک نے پاکستان کیلئے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔ عمران خان کے آنے کے بعد چین کے ساتھ آج سے ہماری تجارت شروع ہوگئی ہے، ایک ہزارسے زائد اشیاء پاکستان سے چینی مارکیٹ میں بھجوائی جاسکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں