ایل این جی کرپشن کیس: سابق وزیراعظم شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل کے جوڈیشل ریمانڈ میں 16 دسمبر تک توسیع

نیب نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی کرپشن ریفرنس دائر کردیا، احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مفتاح اسماعیل کے جوڈیشل ریمانڈ میں 16 دسمبر تک توسیع کردی۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے روسٹرم پر آکر سوال کیا کہ میرے خلاف الزام کیا ہے یہ بتا دیں،جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا ریفرنس میں سب کچھ ہے،جج محمد بشیر نے کہا آپ انتظار کرلیں۔

ریفرنس میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا نام بھی ملزمان کی فہرست میں شامل ہے،نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں کہا گیا کہ سابق سیکرٹری اور ایم ڈی پٹرولیم اہم گواہ بن گئے،سابق ایم ڈی شیخ عمران الحق نے بھی معاہدے میں اہم کردار ادا کیا،ایک کمپنی کو 21 ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا گیا۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ فائدہ مارچ 2015 سے ستمبر 2019 تک پہنچایا گیا،فائدہ پہنچانے سے 2029 تک قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان ہوگا،عوام پر گیس بل کی مد میں 15 سال کے دوران 68 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔

نیب نے ریفرنس میں مزید کہا شاہد خاقان عباسی سمیت 9 ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل ہے،نیب راولپنڈی قطر معاہدے کی الگ سے انکوائری کررہا ہے،دوران جسمانی ریمانڈ شاہد خاقان عباسی کا تعاون سے مکمل انکار رہا۔

دوسری جانب احتساب عدالت نے شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کرکے سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی،عدالت نے شاہد خاقان عباسی کو اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دے دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں