19

علی امین گنڈاپور کا بڑا چیلنج، فضل الرحمٰن کے بیٹے نے چیلنج کر دیا قبول، اب ہو گا جلد ٹاکرا

قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں حکومتی اراکین خاص طور وزیر برائے کشمیر امور اور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کو ان کے حلقے سے انتخابات لڑنے کے لیے دیے گئے چیلنج کو جے یو آئی (ف) کے رہنما اور مولانا کے بیٹے اسد محمود نے قبول کرلیا۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا شور شرابے سے بھرا اجلاس ہوا اور اسی دوران وزیر دفاع پرویز خٹک، علی امین گنڈا پور سمیت حکومتی اراکین نے اپوزیشن خاص طور پر جے یو آئی (ف) پر سخت تنقید کی اور مولانا فضل الرحمٰن کو چیلنج بھی دے ڈالا۔

وزیر برائے کشمیر امور اور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حلقے سے مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف انتخابات لڑنے کے لیے اپنی نشست چھوڑنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن دھرنا ختم کریں، قوم سے معافی مانگیں اور میرے حلقے سے میرے خلاف الیکشن لڑیں اور اپنی مقبولیت کا اندازہ لگا لیں۔

اس چیلنج کے جواب میں جے یو آئی (ف) کے رہنما اور مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے اسد محمود نے کہا کہ وہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں، آپ استعفیٰ دیں میں بھی استعفیٰ دیتا ہوں، آپ اعلان کروں ہم کل انتخابات لڑیں گے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایک نشست پر انتخابات لڑنی ہے تو ایک پر لڑیں گے، پورے ملک میں لڑنا ہے تو پورے ملک میں لڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جو معاہدہ کیا ہے ہم اس کے پابند ہیں، ہمارا آئین ہمیں اس احتجاج کی اجازت دیتا ہے اور ہم آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔

خیال رہے 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ 38 (ڈیرہ اسمٰعیل خان ون) سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی امین گنڈا پور 81 ہزار 32 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ اس حلقے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو شکست ہوئی تھی اور وہ 45 ہزار 796 ووٹ حاصل کرسکے تھے۔

یاد رہے کہ اس وقت مولانا فضل الرحمٰن اس وقت حکومت کے خلاف ‘آزادی مارچ’ کر رہے ہیں اور 8 روز سے شہر اقتدار میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کے اس آزادی مارچ میں سب پہلا مطالبہ وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا ہے جبکہ حکومت اس مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کرچکی ہے۔

تاہم اس کے باوجود حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس ڈیڈلاک کے خاتمے کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں