لہجے میں سختی نہ الزامات کی بوچھاڑ چوہدری نثار 

لہجے میں سختی نہ الزامات کی بوچھاڑ چوہدری نثار

 مسلم لیگ ن سے اصولی اختلاف کی بنا پر انتخابات میں آزاد حیثیت سے میدان میں کودنے والے چودھری نثار علی خان نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر اس موقف کو دہرایا ہے کہ پارٹی سے اختلاف کیا تھا بغاوت نہیں اور مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچانے کا تصور نہیں کر سکتا چوہدری نثار علی خان کے اس بیان نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن کے اندر اس لابی کو پریشان کر دیا ہے جو ان سے متعلق ہر ایشو پر جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر کے قیادت کو ان سے دور کرتی رہی ، دیکھنا یہ ہو گا کہ ن لیگ کی حکمت عملی کے خلاف دو ٹوک موقف اختیار کرنے والے چودھری نثار دفاعی محاذ پر کیوں آ گئے کیا اب بھی جماعت یا اسکی لیڈر شپ میں ان کیلئے کوئی نرم گوشہ موجود ہے اور مستقبل میں چودھری نثار اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات کا کوئی مثبت حل نکل سکتا ہے جہاں تک پریس کانفرنس کے انعقاد کا سوال ہے تو اسکی تیاری چند روز سے ان ریمارکس کے حوالے سے کر رہے تھے جو ان سے منسوب کر کے بریکنگ نیوز کے طور پر چلوائے گئے تھے اور مسلم لیگ ن کے اندر چودھری نثار مخالف گروپ نے اس پر اپنا رد عمل بھی ظاہر کر دیا تھا ۔ چوہدری نثار علی خان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں وہ مشکل آدمی ضرور ہیں اور مسلم لیگ ن کے اندر رہتے ہوئے اپنے خیالات اور تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن ان سے یہ توقع رکھنا کہ مخالفت میں ذاتیات پر اتر آئیں گے یا اپنے سیاسی نظریہ سے بیوفائی کریں گے تو ایسا ممکن نہیں ہو گا اور اس وجہ سے مسلم لیگ ن سے فاصلے بن جانے کے باوجود جمعتہ الوداع کے موقع پر پارلیمنٹ کی جامعہ مسجد میں انہوں نے خصوصی طور پر بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کیلئے دعا بھی کروائی جس پر وہاں موجود لوگ حسرت کا اظہار کرتے نظر آئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں