پی پی اور جمعیت علما اسلام ایک پیج پر، حکومت کو گھر بھیجنے کی تیاری کر لی، اندر کی خبر آگئی

جمعیت علما اسلام (ف) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے دونوں جماعتیں متفق ہیں۔

اسلام آباد میں سینیٹر شیری رحمٰن کے دفتر میں پی پی پی اور جے یو آئی (ف) کے رہنماوں کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی، نیر بخاری، شیری رحمٰن اور فیصل کریم کنڈی بھی شامل تھے۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پی پی پی رہنما نیر بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام (ایف) اس حکومت کو گھر بھیجنے پر متفق ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو گھر بھیجنے کے طریقہ کار پر مشاورت ہو رہی ہے اور یہ طے شدہ بات ہے کہ اس حکومت سے نجات چاہتے ہیں۔
نیر بخاری نے کہا کہ اے پی سی بلانے سے متعلق بھی بات چیت چل رہی ہے۔

رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ اس وزیراعظم کو گھر بھیجنا ہے اور اس حوالے سے دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے متعلق پارٹی قیادت کو آگاہ کریں گے تاہم پیپلز پارٹی سے مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ دنوں اپنے بیان میں جمعیت علما اسلام (ف) کے حکومت مخالف دھرنے کے معاملے ان کا ساتھ دینے کے حوالے سےہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی اور اخلاقی حمایت کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے احتجاج کا اپنا منصوبہ بنالیا ہے جس کے لیے مقامات کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے اکتوبر میں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف اسلام آباد میں ملین مارچ کا اعلان کیا ہے جس کے لیے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

بلاول بھٹو نے گزشتہ روز سکھر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ اگر جنوری تک اس کٹھ پتلی حکومت کو ختم نہ کیا گیا تو پھر ملک بھر سے جیالے راولپنڈی پہنچیں گے۔

حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جیالوں کو روکا ہوا ہے لیکن جنوری کے بعد ان کو نہیں روکیں گے اور اسی پنڈی میں پہنچ کر دکھائیں گے جہاں پر آپ ہمارا ٹرائل کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال کے آخر تک اگر اس کٹھ پتلی، دھاندلی زدہ اور غیرجمہوری حکومت کو نہیں نکالا گیا تو کوئی طاقت جیالوں کو روک نہیں سکے گی، اگر 126 دن کا دھرنا برداشت ہوسکتا ہے تو پاکستان پیپلزپارٹی کا جمہوری احتجاج بھی پنڈی کو برداشت کرنا پڑے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں ایسا کیا ہے جو فریال تالپور اور آصف زرداری کو بھی وہیں رکھا گیا ہے اور وہیں پر بھٹو کو پھانسی دی گئی اور بینظیر بھٹو کو بھی شہید کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں