مقبوضہ کشمیر 90 لاکھ فوجیوں کے محاصرے میں ہے: وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹائے جانے تک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ کرفیو اٹھنے کےبعد کیا ہوگا،لیکن قتل عام کا خدشہ ہے، 80 لاکھ لوگ کشمیر میں محصور ہیں اس سے بڑی اور ریاستی دہشتگردی کیا ہوگی۔

نیویارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے، کیوبا بحران کے بعد پہلی بار دو ایٹمی طاقتیں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے مسئلے پر مزید بات نہیں کرسکتا، ٹرمپ سےملاقات کے بعد میں نے فوری طور پر صدرروحانی سے ملاقات کی۔

وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کیلئے امریکا میں موجود ہیں۔

وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور کشمیر کا معاملہ پوری دنیا کے سامنے رکھیں گے۔

اس دوران وزیراعظم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اور اب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ترک صدر طیب اردوان، ایرانی صدر حسن روحانی، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور ایتھوپیا کی صدر سمیت کئی سربراہان مملکت سے مل چکے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ وہ بھارتی وزیراعظم مودی سے کشمیر میں کرفیو ختم کرنے کا کہیں جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ نریندر مودی سے بات کریں گے۔

نیویارک میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں