وزیراعظم کا نائن الیون کے بعد امریکا کا اتحادی بننا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی کیوں قرار دیا؟ جان لیں اس خبر میں

وزیراعظم عمران خان نے نائن الیون کے بعد امریکا کا اتحادی بننا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ میں 70 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے اور 200 ارب کا معیشت کو نقصان ہوا۔

وزیراعظم عمران خان نے کونسل آن فارن ریلیشنز میں گفتگو کے دوران پاکستان کی معیشت پر ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘معیشت میں جب خسارہ ہوتو کامیابی حاصل نہیں کرسکتے اسی لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا اور ہمیں بدقسمتی سے بدترین کرنٹ اکاؤنت خسارہ ملا لیکن ہم نے تقریباً 70 فیصد خسارہ کم کیا ہے اور ہم صحیح سمت کی جانب گامزن ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جب ہم حکومت میں آئے تو بدترین معاشی صورت حال تھی اور چین نے ہماری مدد کی اگر چین سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مدد نہ کرتے تو ہم دیوالیہ کی طرف جارہے تھے’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘اس وقت چین ہمیں تجارتی مواقع فراہم کررہا ہے اور چینی صنعت کو پاکستان منتقل کرنے کا اچھا موقع ہے’۔

افغانستان میں امریکی جنگ میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘افغانستان میں پہلے جہادی پیدا کیے گئے اور پھر ان کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے’۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘نائن الیون کے بعد امریکا کے ساتھ شامل ہونا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی تھی کیونکہ اس کی وجہ سے 70 پاکستانی جاں بحق ہوئے، بعض پاکستانی ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ 150 ارب سے زائد اور بعض کہتے ہیں 200 ارب سے زیادہ معیشت کا نقصان ہوا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال میں پاکستان کے لیے یہ بدترین وقت اور اب سبق مل گیا اور پاکستان کو پتہ ہے، اور جب میٹس کہتا ہے کہ پاکستان انتہاپسند ریاست ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے پہلے جہادی پیدا کیے اور بعد میں ان کو مارنا شروع کیا اسی لیے ہم مشکلات کا شکار ہوئے’۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ طالبان چاہتے تھے میرے ساتھ ملاقات ہو لیکن افغانستان کی حکومت نہیں چاہتی تھی اس لیے یہ ملاقات منسوخ کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین کے ساتھ مختلف معاملات پر ہم بات کرتے ہیں جس کو یہاں بیان نہیں کروں گا لیکن ہم افغانستان کے معاملات بھی دیکھ رہے ہیں پھر ایران اور سعودی عرب کے درمیان بھی معاملات ہیں اسی کے دوران بھارت بھی ہے۔

چین کے حوالے سے سوالات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین نے تجارت پر توجہ مرکوز رکھی اور چین کی جو بات مجھے سب سے اچھی لگتی ہے وہ کروڑوں شہریوں کو غربت سے نکالنا ہے اور میرا بھی یہی مقصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین نے کرپشن کے خلاف بڑی کارروائیاں کی اور کاش میں اپنے ملک بھی کرپشن کے خلاف ایسا ہی کرسکتا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات اس وقت ملتوی ہوئے جب دستخط ہونے والے تھے اگر ہم سے مشاورت کی جاتی تو شاید ہم کردار ادا کرتے۔

انہوں نے کہا کہ میں بھارت کے حوالے سے اسی طرح پریشان ہوں جس طرح پاکستان کے لیے ہوں کیونکہ بھارت اس وقت صحیح سمت نہیں جارہا ہے اور بھارت میں نسل پرستانہ اقدامات گاندھی کے نظریات کے منافی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں