فیاض الحسن کے بیٹے کے نمبرز بڑھانے سے متعلق انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی: تحلکہ خیز انقشافات

صوبائی وزیر فیاض الحسن کے بیٹے کے نمبرز سے متعلق انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق انکوائری رپورٹ کے مطابق فیاض چوہان کے بیٹے کے نمبر غیر قانونی طور پر بڑھائے گئے۔ صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے بیٹے کے فزکس پریکٹیکل کے نمبر 14 سے 30 کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہیڈ ایگزامینر ایسوسی…

پریکٹیکل لینے والے سب ایگزامینر نے نمبروں کی تبدیلی سے اتفاق نہیں کیا جب کہ پروفیسر سلیم رمضان کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے۔ بورڈ ذرائع نے اس حوالے سے کہا کہ ہیڈ ایگزمینر کے خلاف ضابطےکی کارروائی کے لیے سیکریٹری ہائرایجوکیشن کو رپورٹ بھیج دی گئی ہے۔

چیئرمین پنڈی بورڈ ڈاکٹر غلام دستگیر نے کہا کہ فیاض چوہان کے بیٹے کا رزلٹ تاحال جاری نہیں کیا گیا۔

قانونی رائے کے بعد فہد حسن کا نتیجہ جاری کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ صوبائی وزیر کالونیرز فیاض الحسن چوہان کے بیٹے کو پریکٹیکل کے نمبر دینے کے معاملے پر چیئرمین تعلیمی بورڈ نے انکوائری کمیٹی قائم کی تھی جس کی نگرانی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چکوال کے پرنسپل غلام محمد جھگڑ کو سونپی گئی تھی۔ صوبائی وزیر کالونیز فیاض الحسن چوہان کے بیٹے فہد حسن نے رول نمبر759301 کے تحت انٹر میڈیٹ سالانہ امتحانات میں حصہ لیا اور 789 نمبرز کے ساتھ امتحان کو پاس کیا تھا۔
بورڈ نے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے بیٹے کے فزکس پریکٹیکل کے نمبروں میں سب ایگزامینر اور ہیڈ ایگزامینر کے دیئے ہوئے نمبروں میں فرق ہونے کا شبہ ہونے پر نتیجہ روک دیا تھا۔ دوسری جانب فیاض الحسن چوہان نے بیٹے کے نمبر بڑھوانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے بیٹے کو بورڈ کے قوانین اور آئین کے مطابق نمبر دیئے گئے۔ میں حلفاً کہتا ہوں چئیرمین سمیت بورڈ کے کسی عہدیدار پر دباؤ نہیں ڈالا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں