پاکستانی خبریں

وزیر داخلہ نے عامر تانبا پر فائرنگ کے واقعے میں بھارت کے ملوث ہونیکا شبہ ظاہر کردیا

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بھارتی دہشتگرد سربجیت سنگھ پر حملے میں ملوث عامر تانبا پر فائرنگ کے واقعے میں بھارت کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ جب تک تفتیش مکمل نہ ہو جائے کہنا بہتر نہیں لیکن بھارت کا اسی طرح کا پیٹرن ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ماضی میں جو دو چار واقعات ہوئے ہیں اس میں بھارت ملوث تھا، ابھی بھی شواہد بھارت کی طرف جا رہے ہیں۔

محسن نقوی کا کہنا ہے کہ عامر تانبہ سے پہلے بھی قتل کے 4 واقعات میں بھارت ملوث تھے، پولیس تفتیش کر رہی ہے اب تک ان کا شک بھارت پر جا رہا ہے، جب تک تفتیش مکمل نہ ہو جائے کہنا بہتر نہیں لیکن اسی طرح کا پیٹرن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہاولنگر واقعہ کو بڑا ایشو بنانے کی ضرورت نہیں، بہاولنگر جیسے واقعات سے کوئی مورال کم نہیں ہو رہا۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ایک واقعے کو لے کر کہا جائے کہ قوم کا حوصلہ پست ہو گیا تو یہ درست نہیں، واقعہ ضرور ہوا ہے، تحقیقات بھی ہو رہی ہیں، گھر میں بھائیوں کی بھی لڑائی ہو جاتی ہے، ایسی چیز نہیں کہ کہیں کہ پوری فورس ڈی مورالائز ہو گئی ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ بعض انفرادی واقعات غلط ہوسکتے ہیں، دو لوگوں کی لڑائی میں ایک غلط، دوسرا ٹھیک ہوتا ہے، بھارت میں بھی ایسا واقعہ ہوا ہے، ہم نے یہاں کے واقعے کو اتنا بڑا بنا دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں پیش آئے ایسے ہی واقعے کی کلپ بھی شیئر کر سکتا ہوں، بھارت کا رویہ دیکھیں اور اپنا طرز عمل دیکھیں، ہمیں اس پر تھوڑا سبق سیکھنا چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ رانا ثنا اچھے دوست اور بھائی ہیں ان کے بیان پر کمنٹس نہیں کریں گے، لاہور ایئر پورٹ پر دو دو گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے، ہم لوگوں کو اتنا انتظار نہیں کروانا چاہتے، بجلی کی قیمت بہت زیادہ ہے، ہماری میٹنگ بھی اوور بلنگ پر تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے لاہور نے اس حوالے سے بہت اچھا کام کیا ہے، لیسکو میں 83 کروڑ یونٹ اوور بلنگ ہوئے ہیں، 300 یونٹ والے غریب کو بھی اوور بل کر کے زیادتی کی گئی۔

محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پورے پاکستان میں اوور بلنگ سے متعلق کام شروع کریں گے، ایک ایکسین گرفتار ہوا ہے، ڈی جی ایف آئی اے پر بہت پریشر آ رہا ہے لیکن یہ مہم نہیں رکے گی، لاہور میں کام کیا گیا، باقی سرکلز کام شروع کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے کچھ قوانین میں ترامیم ہونے والی ہیں، پہلے کی بات نہیں کرسکتا اب ایف آئی اے پر کوئی پریشر نہیں آئے گا، وزیرِ اعظم سے بھی بات کی ہے جو مرضی ہوجائے پریشر نہیں لیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور کے پی میں بجلی چوری زیادہ ہے، وہاں کام کریں گے، بلوچستان میں جو واقعہ ہوا اس پر انویسٹی گیشن ہو رہی ہے، ایجنٹ تمام افراد کو زیارت کے ویزے پر لے جا رہے تھے، افسوس کی بات ہے سرکاری دفاتر عام آدمی کو اوور بل کر رہے تھے، کچھ بھرتیاں روکی تھیں وہ کرنے کی ہدایت کر دی گئی، تمام ایف آئی اے افسران کی پرموشن ہو جائے گی، ہمیں سخت قوانین کی ضرورت ہے۔

وزیرِ داخلہ نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا سائبر کرائم سے متعلق قانون سازی کے حق میں ہوں، انگلینڈ یا یو اے ای میں کوئی کسی کے خلاف ٹوئٹ کر کے دکھائے، اس کے بعد اس سے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ بھی دکھ لیں، پاکستان میں آزادی اظہار رائے کی آزادی کا حق ہونا چاہیے، کسی پر کیچڑ اچھالنا اور اس کا دفاع بھی نہ کر پانا، اس کے لیے قانون ہونا چاہیے، ہمیں سخت قوانین کی ضرورت ہے۔

محسن نقوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کسی ملک میں ویڈیو ٹوئٹ کر کے دکھا دیں کہ یہاں اتنا پانی کھڑا ہے پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے، سوشل میڈیا پر پابندی کا لفظ استعمال نہ کریں قوانین آنے چاہئیں۔

Related Articles

Back to top button