اپوزیشن کا دھماکہ خیز اقدام، اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کیلئے تیاریاں شروع

جے یو آئی اور مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کے خلاف اسلام آباد لاک ڈاؤن کی تاریخ کا تعین دونوں جماعتیں مل کر کریں گی۔

اسلام آباد میں دھرنے کے معاملے پر مولانا فضل الرحمن ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے جہاں انہوں نے وفد کے ہمراہ میاں شہباز شریف سے ملاقات کی۔

لیگی قیادت میں راجہ ظفر الحق، احسن اقبال، ایاز صادق ،خرم دستگیر، مریم اورنگزیب، برجیس طاہر اور دیگر رہنما جب کہ مولانا فضل الرحمان کے وفد میں اکرم درانی اور مولانا امجد شامل تھے۔ ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال اور اسلام آباد میں دھرنے اور دیگر امور پر غور کیا گیا۔

سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سفارشات نواز شریف کو ارسال کرے گی، احسن اقبال

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دونوں قائدین نے آزادی مارچ سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، کشمیر پر حکومت کے اقدامات پریشان کن ہیں، مہنگائی نے 20 سال کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے، تاجر، صنعت کار اور کسان سب پریشان ہیں، اسی طرح حکومت نے گورننس کا بدترین بحران پیدا کردیا ہے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ آج پاکستان کے بارے میں دنیا فکر مند ہے اس حکومت کا مزید برسر اقتدار رہنا سلامتی کے خطرات پیدا کرے گا، طاہر القادر ی نے جس طرح سیاست کو خیر باد کہا ہے عمران خان بھی ایسا ہی جرأت مندانہ فیصلہ کریں۔

آزادی مارچ سے متعلق مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ ہوگا جس کے بعد سفارشات نواز شریف کو بھیجی جائیں گی بعدازاں مشترکہ طور پر آزادی مارچ میں شرکت کا فیصلہ ہوگا۔

اکرم درانی نے کہا کہ ہم ساری جماعتوں کے پاس جارہے ہیں، مشترکہ طور پر آزادی مارچ کو چلائیں گے اور اکٹھے مل کر تاریخ کا تعین کریں گے، 18 ستمبر کو عاملہ کا اجلاس بلایا ہے کیوں کہ اتفاق میں برکت ہے۔

اکرم درانی نے مزید کہا کہ 30 ستمبر تاریخ کو سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سفارشات پیش ہوں گی جس میں دونوں پارٹیاں مل کر فیصلہ کریں گی کہ آزادی مارچ کی تاریخ کیا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں