پنجاب پولیس کی حراست میں ہلاک صلاح الدین کے والد کے وکیل کیس سے دستبردار، وکالت نامہ کیوں واپس لیا؟ اندورنی کہانی اس خبر میں

پنجاب پولیس کی حراست میں ہلاک صلاح الدین کے والد کے وکیل کیس سے دستبردار ہوگئے ، وکیل کا کہنا ہے کہ ورثاء واقعے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پولیس کے مبینہ تشدد سے جاں بحق صلاح الدین کے والد محمد افضال کے وکیل بشارت ہندل ایڈووکیٹ کیس سے دستبردار ہو گئے ہیں، بشارت ہندل ایڈووکیٹ نے علاقہ مجسٹریٹ ملک محمد رفیق کی عدالت میں پیش ہو کر اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا۔

وکیل بشارت ہندل کا کہنا ہے کہ صلاح الدین کو مظلوم سمجھ کر میں ان کے والد کا وکیل بنا مگر صلاح الدین کے ورثاءاس کیس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، صلاح الدین کیس کیاعلیٰ سطی انکوائری کرائی جارہی ہے، اس کے باوجود صلاح الدین کے ورثاءعدم اطمینان کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیس کا رخ کسی اور جانب موڑنا چاہتے ہیں۔
وکیل بشارت ہندل نے کہا کہ ورثاءکی طرف سے قائم مقام ڈی پی او حبیب اللہ خان کو کیس میں ملوث کرنے کی کوشش نا انصافی اور بے گناہ آفیسر پر جھوٹا الزام ہے، اس لیے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا۔

واضح رہے کہ اے ٹی ایم مشین توڑ کر اس میں سے کارڈ نکالنے کے الزام میں رحیم یار خان پولیس نے ملزم صلاح الدین کو گرفتار کیا تھا لیکن پولیس تشدد کی وجہ سے وہ حراست میں ہی ہلاک ہوگیا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ صلاح الدین ذہنی مریض تھا جو ہمیشہ ادھر ادھر گھومتا رہتا تھا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ اے ٹی ایم سے کارڈ چرانے والے صلاح الدین کا دوران حراست انتقال ہوگیا تھا، پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔صلاح الدین کے والد کا کہنا تھا کہ بیٹا ذہنی مریض تھا، وہ اکثر ادھر ادھر گھومتا پھرتا تھا اس کے ہاتھ پر نام اور پتا درج تھا۔

آر پی او رحیم یار خان نے اس معاملے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں معطل کردیا تھا ، صلاح الدین کے جسم پر نشانات پوسٹ مارٹم کی وجہ سے تھے، تاحال موت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں