بانیٔ پاکستان قائد اعظم کا آج 71 واں یوم وفات ملی اتحاد و یگانگت کے جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے

قائداعظم محمد علی جناح کا آج 71 واں یومِ وفات قومی اور ملی اتحاد و یگانگت کے جذبے کے ساتھ عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔

بانی پاکستان کے یومِ وفات پر مسلح افواج کی جانب سے ان کے مزار پر حاضری دی گئی ہے اور پھولوں کی چادر چڑھائی ہے۔

وزیراعلیٰ اور گورنر سندھ سمیت صوبائی وزراء میئر اور دیگر اہم شخصیات نے بھی مزار قائد پر حاضری دی۔

قیام پاکستان کے صرف ایک سال ایک ماہ بعد بانیٔ پاکستان کی وفات حسرت آیات ایک ایسا قومی المیہ ہے جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جا رہے ہیں‘ کیونکہ قیام پاکستان کے بعد قوم کو درپیش سنگین مسائل کے حل اور اندرونی و بیرونی سازشوں سے نمٹنے کیلئے قائداعظم کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی

سوانح حیات جناح کری ایٹر آف پاکستان کے رائٹر ہیکٹر بولیتھو مطابق جناح کے سیدھے پیر پر پیدائشی نشان دیکھ کر ایک پیر نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ لڑکا برصغیر کا بےتاج بادشاہ ہوگا۔

جناح بائی اور مٹھی بائی کے سب سے بڑے اور لاڈلے بیٹے محمد علی جناح کا پہلے پہل داخلہ ایک پرائمری اسکول میں کروایا گیا لیکن ننھے جناح کا زیادہ وقت کھیل میں صرف ہوتا۔

یہ سلسلہ بھی دو ماہ سے زیادہ نہ چل سکا۔ مسٹر اینڈ مسز جناح کی رائٹر شیلا ریڈی لکھتی ہیں کہ جناح بائی نے حکمت عملی تبدیل کی اور اس بار گھر سے تقریباً ایک میل دور سندھ مدرسۃ الاسلام میں داخلہ کرایا تاکہ جناح مصروف بازار اور گنجان آباد محلے سے دور تعلیم حاصل کرسکیں۔

والدہ نے شرط رکھی کہ لندن جانے سے قبل محمد علی جناح کو شادی کرنا ہوگی۔ فاطمہ جناح اپنی کتاب مائی برادر میں لکھتی ہیں کہ اپنے فیصلے خود کرنے والے جناح نے شاید یہ پہلا اور آخری فیصلہ کسی اور کی مرضی سے کیا۔ وہ اپنی ماں کا کہا نہیں ٹالتے تھے۔

افسوس کاٹھیاواڑ کی ایمی بائی، جناح کی لندن روانگی کے دو ماہ بعد بیماری سے چل بسیں۔ کاروباری رموز سیکھنے کی غرض سے لندن جانے والے جناح نے قانون پڑھا اور لنکن اِن سے سب سے کم عمر بیرسٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

آج ہم قائد کے پاکستان کے دفاع کو یقینی بنا کر ہی قائد کی روح کو تسکین پہنچا سکتے ہیں۔ اس کیلئے ہمیں دہشت گردی اور کرپشن سے پاک پاکستان کی بھی ضمانت فراہم کرنا ہو گی جبکہ روٹی روزگار کے آزار میں پھنسے عوام کو خوشحال بنانے کیلئے وطن عزیز کو اقتصادی طور پر مستحکم کر کے ہی ہم قائداعظم کے آدرشوں اور امنگوں کے مطابق قیام پاکستان کے مقاصد کو شرمندۂ تعبیر کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں