تھپڑ مارنے پر گولیوں کا مقدمہ نہیں درج کر سکتے، شہباز گل بھی بول پڑے

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز گل نے کہاہے کہ لیڈی کانسٹیبل کہے کہ کسی نے ان کو تھپڑ ماراہے اور اس پر گولی مارنے کا مقدمہ درج کردیا جائے توایسانہیں کیا جاسکتا ۔

نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز گل نے کہاہے کہ کانسٹیبل فائزہ پر تشدد کرنا بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے ۔اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی گئی اور دفعات لگا کر ایف آئی آر درج کی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ وکیل کو نام کی غلطی کی وجہ سے ضمانت نہیں دی بلکہ عدالت نے اس کوضمانت دی جس پر میں بات نہیں کرسکتا اور نہ کوئی اور کرسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ لیڈی کانسٹیبل کو پولیس کے نظام پر اعتماد ہوناچاہئے کہ پولیس نے ان کو ریلیف دیدیا ہے ۔میں کانسٹیبل فائزہ سے عدم اتفاق کرتا ہوں اور اس کیس میں کیا ہوسکتاہے؟اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ زیادتی کرتاہے تو پولیس اس کوگرفتار کرکے عدالت میں پیش ہی کرسکتی ہے اور کیاکرسکتی ہے ؟اب لیڈی کانسٹیبل کہے کہ کسی نے ان کو تھپڑ ماراہے اور اس پر گولی مارنے کا مقدمہ درج کردیا جائے توایسانہیں کیا جاسکتا ۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ جرم کی دفعات جرم کے مطابق ہی لگائی جاتی ہیں ۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ جرم ناقابل ضمانت نہ ہوتو اور اس میں ناقابل ضمانت دفعات لگادی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اختیارات کا غلط استعمال ہو، اس میں پولیس بھی شامل ہے ، شہری بھی شامل ہیں اور میڈیا بھی شامل ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں