بین الاقوامی

امریکا نے پابندیاں عائد کیں تو دونوں ملکوں کے تعلقات ختم ہو جائیں گے: پیوٹن

امریکی صدر جو بائیڈن اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے اور روسی صدر نے کہا کہ اگر امریکا نے نئی پابندیاں عائد کیں تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطبق دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے تقریباً ایک گھنٹے تک دوستانہ انداز میں بات چیت کی اور یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ ایک ماہ کے دوران دوسری مرتبہ رابطہ ہوا ہے۔

یوکرین کی سرحد کے قریب روسی دستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اس بحران کے سنگین شکل اختیار کرنے کا خطرہ ہے کیونکہ روس اپنی بارڈر سیکیورٹی مزید بڑھانے پر مصر ہے اور اس نے اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے ہائپر سونک میزائل کا ٹیسٹ کیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب سے گفتگو میں انہیں خبردار کیا کہ اگر انہوں یوکرین کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی تو امریکا، روس پر نئی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔

تاہم روس کے مشیر برائے امور خارجہ یوری اوشاکوو نے بائیڈن اور پیوٹن کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے بعد ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مزید امریکی پابندیاں بہت بڑی غلطی ہو گی اور اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی سرحد کے قریب جارحانہ ہتھیار نصب کیے جانے کی صورت میں جیسے امریکا ردعمل دے گا بالکل اسی طرح روسی سرحد کے قریب اگر ہتھیار نصب کیے گئے تو روس بھی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

تاہم روس کے برعکس وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک روایتی اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ایسے شعبے ہیں جس میں دونوں فریقین بامعنی پیشرفت کر سکتے ہیں لیکن اس کے علاوہ ایسے اختلافات بھی ہیں جنہیں حل کرنا ناممکن ہے۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جین پساکی نے کہا کہ بائیڈن نے روس پر زور دیا کہ وہ یوکرین کے ساتھ تناؤ کم کرے اور ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر روس نے یوکرین پر مزید حملہ کیا تو امریکا، اس کے اتحادی اور شراکت دار فیصلہ کن جوابی کارروائی کریں گے۔

دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان آئندہ سال 9 اور 10 جنوری کو جنیوا میں ملاقات چے ہے لیکن اس کے باوجود روس نے بائیڈن سے بات کرنے کی درخواست کی تھی۔

جنیوا میں مذاکرات کے بعد 12 جنوری کو روس اور نیٹو کا اجلاس ہو گا اور 13 جنوری کو وینا میں یورپ کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں مذاکرات بھی ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو 50 منٹ سے زائد دیر تک جاری رہی اور جب بات چیت ختم ہوئی تو روس میں رات 12 سے زائد بج چکے تھے۔

ایک سینئر انتظامی عہدیدار کے مطابق بائیڈن نے اپنے ہم منصب سے کہا کہ دونوں طاقتوں کو دو راستوں کا سامنا ہے جس میں سے ایک سفارت کاری اور دوسرا پابندیوں کے ذریعے امریکی مزاحمت ہے۔

مذکورہ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ کیا راستہ لیا جائے گا اس کا انحصار آنے والے دنوں میں روس کے اقدامات پر ہے۔

ادھر روس نے کہا ہے کہ وہ اس بات کی تحریری ضمانت چاہتے ہیں کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا اور نیٹو اتحاد کے ہتھیار سابقہ سابق یونین کی ریاستوں کے اطراف نصب نہیں کیے جائیں گے البتہ بائیڈن انتظامیہ یہ الزامات مسترد کر چکی ہے۔

روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد کے قریب ایک لاکھ فوجی دستوں کی تعیناتی اور امریکا و نیٹو کی جانب سے ضمانت دینے کے مطالبات میں اضافے کے باوجود بائیڈن نے پیوٹن سے کہا ہے کہ سفارتی راستہ بدستور کھلا ہوا ہے۔

وائٹ ہاؤس حکام نے کہا کہ بائیڈن نے واضح کر دیا ہے کہ اگر پیوٹن یوکرین میں فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو امریکا پابندیوں کے ذریعے اقتصادی راستے بند کرنے کے لیے تیار ہے تاہم روسی صدر نے اس پر سخت ردعمل دیا۔

مشیر خارجہ یوری اوشاکوو نے کہا کہ یہ ایک غلطی ہوگی جسے ہمارے آباؤ اجداد ایک سنگین غلطی کے طور پر یاد کریں گے، گزشتہ 30 سالوں میں بہت سی غلطیاں کی گئی ہیں اور ہمیں اس صورت حال میں ایسی مزید غلطیوں سے بچنا چاہیے۔

جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے دوران روس کے مطالبات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا البتہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اگر بحران کم ہوتا ہے تو آیا بائیڈن اس کے بدلے پیوٹن کو کسی پیشکش کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔

روس کی جانب سے جمع کرائے گئے سیکیورٹی دستاویزات کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ نیٹو یوکرین اور سابق سوویت یونین کے دیگر ممالک کو رکنیت دینے سے انکار کرے اور وسط اور مشرقی یورپ میں تعینات افواج واپس بلا لے۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں کا موقف ہے کہ کسی بھی اہل ملک کے لیے رکنیت کھلی ہے اور روس کو یوکرین کے حوالے سے اس قسم کی ضمانتیں دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ماسکو کی طرف سے جمع کرائے گئے سیکیورٹی مسودے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا پیوٹن اس لیے غیر حقیقی مطالبات کر رہے ہیں تاکہ ان کے مسترد ہونے کی صورت میں انہیں حملہ کرنے کا جواز مل سکے۔

یاد رہے کہ 2014 میں روس نے یوکرین کا حصہ تصور کیے جانے والے بحیرہ اسود کے جزیرہ نما علاقے کریمیا پر قبضہ کر لیا جس کے بعد مغربی دنیا نے روس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں سوویت یونین کا حصہ رہنے والا یوکرین دراصل نیٹو کا رکن تو نہیں لیکن نیٹو نے ان کی خودمختاری کا تحفظ کرنے کا ہمیشہ عزم ظاہر کیا ہے۔

2014 میں روس کی جانب سے کریمیا کو اپنے ملک کا حصہ بنانے اور روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی طرف سے مشرقی یوکرین میں ایک علاقے پر قبضے کے بعد سے یوکرین کا مغربی ممالک کی طرف جھکاؤ بڑھتا رہا ہے اور اس دن سے یہ تنازع بدستور جاری ہے۔

Related Articles

Back to top button