بین الاقوامی

افغانستان پر او آئی سی کے اجلاس کی میزبانی پر پاکستان کےمشکور ہیں: امریکا

امریکا کےسیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے افغانستان کی صورت حال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے غیرمعمولی اجلاس کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرجاری بیان میں سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ‘افغانستان پر او آئی سی کا غیرمعمولی اجلاس ہمارے مشترکہ عزم اور مستحقین کی مدد کے لیے اقدامات کی اہم مثال ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس اہم اجلاس کی میزبانی کرنے اور عالمی برادری کو افغانستان کے لوگوں سے تعاون جاری رکھنے کے لیے شرکت کی دعوت دینے پر ہم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں’۔

او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کا غیرمعمولی اجلاس اتوار کو اسلام آباد میں ہوا تھا جہاں 57 اسلامی ممالک کے مندوبین کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک سے مبصرین نے بھی سیشن میں حصہ لیا تھا۔

اجلاس میں افغانستان میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال سے نمٹنے کے لیےہیومینیٹرین ٹرسٹ فنڈ اور فوڈ سیکیورٹی پروگرام کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

دنیا کا دوسرا بڑا بین الملکی فورم او آئی سی کے غیرمعمولی اجلاس کے آخر میں کہا گیا تھا کہ ‘افغانستان کے لوگوں کی انسانی بنیاد پر اور ترقی کے لیے تعاون میں قائدانہ کردار ادا کریں گے’۔

وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ ’افغانستان گزشتہ 40 سال سے مشکلات کا سامنا کرتا رہا ہے اور اگر دنیا نے اس وقت کوئی قدم نہیں اٹھایا تو افغانستان میں سب سے بڑا انسانی بحران دیکھنا پڑے گا‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’افغانستان میں جاری افراتفری کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، میں دوبارہ یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ غیر مستحکم افغانستان کسی کے مفاد میں نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا کو داعش کے خطرے سے بچانا ہے تو افغانستان کو مستحکم کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل بھی افغانستان کی نصف آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی تھی اور اس وقت بھی ملک کا 75 فیصد بجٹ بیرونی امداد پر منحصر تھا۔

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں انسانی بحران امریکا کا پیدا کردہ ہے اور اس بدتر ہونے کی اجازت دے رہا ہے۔

وزارت خارجہ میں او آئی سی اجلاس کی کامیابی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘ہاتھوں سے ایک مسئلہ کھڑا کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ جانتے ہوئے کہ اس سے بچا جاسکتا ہے اگر امریکا میں افغانستان کے اکاؤنٹس اور ان کے بینکنگ سسٹم کا بحال کیا جائے’۔

انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان سے انسانی بحران ختم کرنے کا آسان حل یہ ہے کہ ان کے اثاثے بحال کر دیے جائیں اور ان کے بینکاری نظام میں رقم کا فلو شروع کر دیا جائے۔

واضح رہے کہ افغانستان کی 2 کروڑ 20 لاکھ کی آبادی کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے، یونیسیف کے تخمینے کے مطابق افغانستان میں 5 سال سے کم عمر کے 32 لاکھ بچے سردیوں کے موسم میں غذائی قلت کا شکار ہوں گے۔

Related Articles

Back to top button