بین الاقوامی

اومیکرون کے پھیلاؤ کے باعث مختلف ممالک میں نئی پابندیاں نافذ

دنیا بھر کورونا وائرس کے ویرینٹ اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر نیوزی لینڈ نے بین الاقوامی سرحدیں کھولنے کا فیصلہ مؤخر کردیا، متعدد ممالک میں سماجی فاصلہ رکھنے کی پابندی دوبارہ نافذ کردی گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق کرسمس کے تہوار اور نئے سال کی تقریبات سے قبل ہی متعدد ممالک میں چند ہی روز رہ گئے ہیں جبکہ تازہ ترین صحت کے بحران نے عالمی مالیاتی مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے جس کے اثرات عالمی معیشت کی بحالی پر مرتب ہونے کے خدشات ہیں۔

اومیکرون یورپ ،امریکا اور ایشیا میں دگنی تیزی سے پھیل رہا ہےجبکہ جاپان میں ایک ہی فوجی دستے میں 180 کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے وزیر کرس ہیپکنز کا کہنا تھا نیوزی لینڈ وہ ملک ہے جہاں کورونا وائرس کے خلاف دنیا کے سب سے زیادہ سخت اقدامات کیے گئے ہیں، اور یہاں سرحدیں دوبارہ کھولنے کا فیصلہ فروری کے اختتام تک مؤخر کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جنوری کے وسط میں نیوزی لینڈ کے شہری اور آسٹریلیا کے رہائشی قرنطینہ کے بغیر ملک میں داخل ہوسکیں گے جبکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے موسم سرما سے اپریل تک کا دورانیہ مقرر کیا گیا تھا۔

کرس ہیپکنز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مایوس کن ہے اور اس کی وجہ سے چھٹیوں کے بہت سے منصوبے متاثر ہوں گے،لیکن آج ان تبدیلیوں کو واضح کرنا ضروری کے تاکہ انہیں منصوبوں پر غور کرنے کا وقت مل سکے۔

ادھر، بھارت میں نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروینڈ کجریوال نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ماسک پہنے اور وفاقی حکومت سے بوسٹر لگانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی 12 ریاستوں میں نئے ویرینٹ کے 200 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

سنگا پور میں بھی وزارت صحت نے اومیکرون کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کرنا شروع کردیے ہیں اس سےقبل یہاں جم میں اومیکرون کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، انہوں نے تنبیہ کی ہے کہ مزید کیسز کا امکان ہے۔

امریکا میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کو کورونا وائرس کے ویرینٹ کی وجہ سے ٹیکساس میں ایک غیر ویکسنیٹڈ شخص انتقال کرگیا، ویرینٹ ملک میں تیزی سے غالب آرہا ہے۔

دوسری جانب کورونا وائرس ٹیسٹ کے لیے نیو یارک، واشنگٹن اور امریکا کے دیگر شہروں میں شہریوں کی قطاریں لگ گئی ہیں کیونکہ کرسمس چھٹیاں خاندان کے ساتھ منانے سے قبل شہری جانتا چاہتے ہیں کہ وہ متعدی بیماری میں مبتلا تو نہیں ہوئے ہیں۔

جنوبی کوریا، نیدر لینڈ، جرمنی اور آئرلینڈ کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں حال ہی میں جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن یا سماجی فاصلے کے اقدامات کا نفاذ کردیا گیا ہے۔

اومیکرون کے پھیلاؤکے خدشے کے تحت اسرائیل نے امریکا کو ’نو فلائٹ‘ فہرست میں شامل کرتے ہوئے امریکا پر سفری پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ کویت کا کہنا ہے کہ وہ ان مسافروں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دیں گے جو ویکسین کا دوسری خوراک لگانے کے 9 ماہ بعد بوسٹر شاٹ لگواچکے ہیں۔

مختلف نقطہ نظر

برطانوی وزیر اعظم بورس جوہنسن کا کہنا ہے کہ حالات ’انتہائی سنگین‘ ہوگئے ہیں، کیونکہ لندن میں ہسپتالوں میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کی حکومت کی جانب سے جزوی طور پر سیاحت محدود کرنے سمیت کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں آسٹریلیا میں اومیکرون کیسز میں اضافہ ہورہا ہے لیکن یہاں شہریوں کے ہسپتالوں میں داخل ہونے کے رجحان میں کمی ہے، تاہم وزیر اعظم اسکاٹ مریسن نے ریاستی اور علاقائی رہنماؤں سے لاک ڈاؤن میں توسیع نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم دوبارہ لاک ڈاؤن پر نہیں جارہے ہیں، ہم وائرس کے ساتھ عام فہم اور ذمہ دارانہ زندگی گزاریں گے۔

اومیکرون کا سب سے پہلا کیس گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ اور اس کے بعد ہانگ کانگ میں سامنا آیا تھا جس کے بعد ابتک کم و بیش 89 ممالک میں کورونا کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

کورونا وائرس کے ویرینٹ سے ہونے والی بیمار کی شدت ابھی تک واضح نہیں ہے، لیکن عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور ان لوگوں کو متاثر کر رہا ہے جو پہلے ہی ویکسین لگوا چکے ہیں یا جو کورونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

عالمی مارکیٹ پر اومیکرون کے اثرات

کورونا وائرس کے نے ویرینٹ کے تیزی سے پھیلاؤ نے خدشوں کو جنم دیا ہے کہ مزید ممالک اقتصادی طور پر خلل ڈالنے والی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں، جس سے مارکیٹ متاثر ہو سکتی ہے۔

امریکی اسٹاک نے پیر کو ایک فیصد سے زیادہ کمی کے ساتھ تجارت ختم کی، جبکہ تیل کے سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ یورپ میں نئی پابندیاں ایندھن کی طلب پر اثر انداز ہوں گی، جس سے خام تیل کی قیمتیں کم ہوں گی۔

چین کا یون میں ڈالر کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ سرمایہ کار اثاثوں کے حوالے سے محتاط ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم نے جنوری میں ڈیووس میں ہونے والے سالانہ اجلاس کو اومیکرون کی وجہ جنوری 2022 کے وسط تک ملتوی کر دیا۔

عالمی سطح پر اس وبائی مرض کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 27 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں اور 50 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Related Articles

Back to top button