بین الاقوامی

افغانستان منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے کابل میں احتجاج

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تقریباً 200 افغان شہریوں نے احتجاجی مارچ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کی طرف سے منجمد کیے گئے افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دو دہائی تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد معاشی بحران سے دوچار ملک کے لیے یہ احتجاج اس لحاظ سے منفرد تھا کہ طالبان نے اس کے انعقاد کی اجازت دی تھی۔

افغان پیپلز موومنٹ نامی ایک غیر معروف گروپ کی جانب سے منگل کو کیے گئے اس احتجاجی مارچ میں کوئی خاتون موجود نہیں تھی اور یہ گروپ ماضی میں بھی دارالحکومت میں امن ریلیاں نکال چکا ہے۔

طالبان نے حکومتی منظوری کے بغیر کیے جانے والے تمام مظاہروں اور احتجاج کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور اس سے قبل ملازمتوں اور تعلیم کے حق کے لیے آواز اٹھانے والی خواتین جانب سے کیے گئے مظاہروں پر طالبان نے سخت کریک ڈاؤن کیا تھا۔

منگل کو کیے گئے احتجاجی مارچ کو واضح طور پر افغانستان کے نئے حکمرانوں کا آشیرباد حاصل تھا کیونکہ طالبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی اس کی متعدد تصاویر اور ویڈیو کلپس موجود ہیں جہاں اس میں کہا گیا ہے کہ شرکا نے عام لوگوں کے لیے آواز بلند کی۔

کابل کے وسط میں ایک چوک کے قریب مارچ کرنے والوں نے بینر اٹھائے ہوئے تھے جن پر لکھا ہوا تھا کہ ’ہم کو کھانے دو‘۔

مارچ کے منتظم شفیق احمد رحیمی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمارا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ امریکا جلد از جلد ہمارے اثاثے بحال کرے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک فرد، گروہ یا حکومت کی نہیں بلکہ قوم کی دولت ہے۔

طالبان کی 15 اگست کو اقتدار میں واپسی کے بعد عالمی برادری نے تقریباً 10 ارب ڈالر کے اثاثوں کو منجمد کر دیا تھا۔

لیکن افغانستان اس وقت ایک بہت بڑے انسانی بحران کی لپیٹ میں ہے اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی 3کروڑ 8لاکھ آبادی میں سے نصف سے زائد کو شدید سرد موسم میں بھوک کا سامنا ہے۔

مغربی ممالک نے طالبان کے منجمد اثاثوں کی بحالی کو انسانی حقوق کے احترام سے مشروط کیا ہے جس میں خصوصاً خواتین کو کام اور لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت جیسے اہم عوامل بھی شامل ہیں۔

منگل کا مارچ 57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم کے پاکستان میں منعقد ہونے والے اجلاس کے دو دن بعد ہوا جہاں مذکورہ اجلاس میں افغانستان کو امداد کی فراہمی کے حوالے سے نئے طریقی کار قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

کئی دہائیوں کی جنگ کے سبب پہلے ہی ابتری کا شکار معیشت طالبان کی واپسی کے بعد مزید تنزلی کا شکار ہوگئی ہے۔

بینکوں نے نجی صارفین کی جانب سے رقم نکلوانے پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں اور دارالحکومت میں بہت سے لوگوں نے اپنے خاندانوں کے لیے اشیائے خوردونوش اور کھانا خریدنے کے لیے گھریلو سامان فروخت کرنے کا سہارا لیا ہے۔

Related Articles

Back to top button