بین الاقوامی

امریکا کا ’ایف اے ٹی ایف‘ کے ایکشن پلان پر پاکستان کی کوششوں کا اعتراف

دہشت گردی سے متعلق سالانہ امریکی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ سال 2020 میں پاکستان نے دہشت گردی کی مالی معاونت اور بھارت پر مرکوز عسکریت پسند گروپوں کو روکنے کے علاوہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے مطالبات پورے کرنے کے لیے اقدامات کیے۔

امریکی رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ پاکستان میں گزشتہ برس بھی دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

چنانچہ پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز نے پاکستان کے اندر حملے کرنے والے گروہوں مثلاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، عسکریت پسند گروپ داعش اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے 2020 میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور بھارت پر مرکوز عسکریت پسند گروپوں کو حملے کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے۔

پاکستان نے لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے بانی حافظ سعید اور لشکر طیبہ کے دیگر چار سینئر رہنماؤں کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے متعدد مقدمات میں سزا سنائی۔

 یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ ’پاکستان نے افغانستان میں امن عمل میں مثبت کردار ادا کیا، جیسا کہ طالبان کی تشدد میں کمی کی حوصلہ افزائی کرنا‘۔

ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ ’پاکستان نے اپنے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کو مکمل کرنے کی جانب سال 2020 میں اضافی پیش رفت کی لیکن ایکشن پلان کی تمام شرائط کو مکمل نہیں کیا اور ٹاسک فورس کی ‘گرے لسٹ’ میں ہی رہا۔

رپورٹ میں ’پاکستان کی حمایت‘ کے عنوان سے ایک الگ باب میں کہا گیا کہ امریکی حکومت نے افغانستان اور وسیع تر علاقائی سلامتی میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا 

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ امریکا نے پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تعاون کیا جس نے پاکستان کو ملک کے ان حصوں پر دوبارہ دعویٰ کرنے میں مدد دی جو پہلے عسکریت پسند گروپوں کے قبضے میں تھے۔

 

Related Articles

Back to top button