بین الاقوامی

اومیکرون غیر معمولی انداز میں پھیلنے لگا، کئی ممالک نے پابندیاں عائد کردیں: ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ سے شروع ہونے والی کورونا کی نئی قسم ’اومیکرون‘ تیزی سے پھیل رہی ہے جب کہ متعدد ممالک نے حفاظتی اقدامات کے پیش نظر نئی پابندیاں عائد کردیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے بتایا کہ ’اومیکرون‘ 13 دسمبر تک دنیا بھر کے 77 مماالک تک پھیل چکا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اومیکرون‘ غیر معممولی انداز میں پھیل رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کے خلاف کیے گئے حفاظتی اقدامات اطمینان بخش نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ تاحال اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ ’اومیکرون‘ بہت ہی زیادہ بیمار بناتا ہے، تاہم یہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور کورونا میں مبتلا ہونے والے نئے بہت سارے افراد میں نئی قسم کی تشخیص ہونا باقی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بظاہر دنیا بھر کی حکومتیں ’اومیکرون‘ کو نظر انداز کر رہی ہیں اور ایسا ہی رہا تو دنیا کا نظام صحت بیٹھ جائے گا۔

دوسری جانب ’رائٹرز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ’اومیکرون‘ سے تیزی سے پھیلنے کے بعد متعدد یورپی ممالک نے نئی پابندیاں عائد کردیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جرمنی، آئر لینڈ اور ڈینمارک نے بھی فرانس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کرسمس سے قبل ہی نئی پابندیوں کا اعلان کردیا۔

مذکورہ ممالک سے قبل فرانس نے ’اومیکرون‘ کے پیش نظر جزوی لاک ڈاؤن سمیت سفری پابندیوں کا اطلاق بھی کیا تھا۔

’رائٹرز‘ نے اپنی ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ ’اومیکرون‘ کے تیزی سے پھیلنے سے دنیا بھر کی حکومتیں سال 2022 کے منصوبے نئے سر لکھنے پر مجبور ہوگئیں، کیوں کہ مذکورہ قسم سے قبل کئی ممالک معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ سے دنیا امریکا اور یورپ سمیت ایشیائی اور افریقی خطے کے ممالک بھی اپنے منصوبوں پر نظرثانی کر رہے ہیں اور اب ہر کوئی سال 2022 کے حوالے سے بھی بے یقینی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

’اومیکرون‘ کی تصدیق سے قبل دنیا کے متعدد ممالک کی حکومتوں کو امید تھی کہ سال 2022 میں وہ معمول کے طرف لوٹیں گے اور کئی ممالک کی معیشت میں بہتری بھی دیکھی جا رہی تھی۔

’اومیکرون‘ کے پہلے کیس کی تصدیق گزشتہ ماہ 25 یا 26 نومبر کو جنوبی افریقہ میں ہوئی تھی، جس کے بعد مذکورہ قسم پاکستان سمیت 77 ممالک تک پھیل چکی ہے۔

اگرچہ تاحال ’اومیکرون‘ کے بہت زیادہ کیسز نہیں دیکھے گئے، تاہم مذکورہ قسم تیزی سے دنیا کے ایک سے دوسرے ملک پہنچ رہی ہے۔

’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کے تحت ہی برطانیہ میں 16 دسمبر کو کورونا سے لے کر اب تک پہلی بار 78 ہزار 610 نئے کورونا کیسز رپورٹ ہوئے، جس میں سے درجنوں افراد میں نئی قسم کی تشخیص ہوئی۔

’اومیکرون‘ سے تحفظ کے لیے برطانوی و امریکی ماہرین سمیت دیگر ممالک کے ماہرین نے لوگوں کو کورونا سے تحفظ کی ویکسین کی تین خوراکیں لگوانے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ جن افراد نے دو خوراکیں لے رکھی ہیں وہ بوسٹر ڈوز لگوائیں۔

Related Articles

Back to top button