بین الاقوامی

سابق جنرلز اور سفرا کا افغانستان میں بینکاری نظام کی تعمیر نو کا مطالبہ

ایک درجن سابق امریکی جنرلز اور سفرا نے جوبائیڈن انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں بینکاری کے نظام کی دوبارہ تعمیر نو میں مدد کریں تاکہ افغان ریاست کو بحران سے بچایا جاسکے۔

امریکی تھینک ٹینک اٹلانٹک کونسل کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں انہوں نے کیا کہ ’خوراک اور ادویات کے ساتھ افغانستان کو ایک درمیانے درجے کے مستحکم مبادلہ اور فعال بینکاری کے نظام کی ضرورت ہے تاکہ بڑھتی ہوئی معاشی اور حکومتی ناکامی سے بچا جاسکے۔

بیان کے دستخط کنندگان میں جنرل جوہن کیمپ بیل، جوہن نکلسن اور ڈیویڈ پیٹریس شامل ہیں جو افغانستان میں نیٹو فورسز کی کمانڈ سنبھال چکے ہیں جبکہ دیگر دو ریان کروکر اور رچرڈ اولسن پاکستان اور افغانستان میں امریکی سفرا کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ امریکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ 20 سال قبل بنائے گئے افغانستان کے شہریوں کے سماجی اور اقتصادی مقاصد کے تحفظ میں ان کا ساتھ دے‘۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ہمارا ماننا ہے کہ ایسا کرنے کے لیے راستے تلاش کرتے ہوئے امداد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کر کے اسے ان تک پہنچایا جاسکتا ہے کہ جو اس کے مستحق ہیں۔

انہوں نے جو بائیڈن انتظامیہ کو یقین دہانی کروائی کہ ’افغانستان اب بھی طالبان کے ہی اقتدار میں ہے اور اہم بات یہ ہے کہ امریکا اور دیگر بین لاقوامی فلاحی ادارے ان کےلیے مسلسل کام کریں۔

افغان معاشی بحران کے پیش نظر اقوام متحدہ، عالمی بینک، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور دیگر خبردار کرتے ہوئے ان سے بھی امداد کی اپیل کی گئی ہے۔

15 اگست کو طالبان کے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بین الاقوامی امداد روک دی گئی ہے جبکہ افغان کے اثاثے بھی ان کے کنٹرول میں ہیں جس کی وجہ سے ملک کی 40 فیصد کروز ڈومیسٹک پروڈکٹ اور حکومت کا بجٹ 75 فیصد متاثر ہوا ہے۔

سابق امریکی جنرلز اور سفرا نے تنبیہ کی ہے کہ افغانستان کا بینکاری نظام کا تباہی کا شکار ہے اور ان کی کرنسی کی قدر مسلسل کم ہورہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طویل خشک سالی،کورونا وائرس اور حکومت خدمات کے فقدان کے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ’ افغانستان غربت سےشدید متاثر ہے اور خطرہ ہے کہ سال 2022 کے وسط تک تقریباً 97 فیصد آباد غربت کی لکیر سے نیچے آجائے گی‘۔

ان کہ اپیل میں عالمی خوراک کا پروگرام بھی شامل ہے، افغانستان کے صرف 5 فیصد افراد کے پاس ہر روز کھانے کے لیےموثر غذا موجود ہے۔

ڈبلیو ایف پی نے پیش گوئی کی ہے کہ’ یہ حالات دنیا کے عظیم ترین انسانی بحران کی وجہ بن سکتا ہے‘۔

Related Articles

Back to top button