بین الاقوامی

ڈیموکریسی اجلاس میں غیر جمہوری قوتوں پر امریکی پابندیوں کا امکان

واشنگٹن میں ہونے والی ڈیموکریسی اجلاس میں غیر جمہوری قوتوں پر پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

پاکستان ان 110 ممالک میں شامل ہے جنہیں 9 سے 10 دسمبر کے اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے لیکن اس کی جانب سے ابھی تک شرکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔

امریکی میڈیا کے مختلف آؤٹ لیٹس نے رپورٹ کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ اس ہفتے اجلاس کے موقع پر سلسلہ وار پابندیاں عائد کرے گا، جن میں ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو جمہوریت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ان پابندیوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بدعنوانی میں ملوث افراد کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

واشنگٹن میں ایک ترجمان نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘محکمہ خزانہ ایسے افراد کو نامزد کرنے کے لیے متعدد کارروائیاں کرے گا جو دنیا بھر میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے والی بدنیتی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جس میں بدعنوانی، جبر، منظم جرائم، اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ محکمہ خزانہ بدعنوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے والی خامیوں کو دور کرنے کے سلسلے میں بھی اقدامات کا اعلان کرے گا۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک ‘کانیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس’ نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے اجلاس میں حکومتوں کو مدعو کرتے ہوئے سب کی شمولیت کے نقطہ نظر کا انتخاب کیا۔

جن کو مدعو کیا گیا کہ ان میں لبرل جمہوریتیں، کمزور جمہوریتیں، اور آمرانہ خصوصیات والی ریاستیں بھی شامل ہیں۔

یو ایس فریڈم ہاؤس انڈیکس فار ڈیموکریسیز نے مدعو کیے گئے 77 ممالک کو آزاد یا مکمل جمہوری ریاست قرار دیا جبکہ 3 کو جزوی آزاد قرار دیا گیا جبکہ انگولا، کانگو اور عراق کو غیر آزاد کے درجے میں رکھا گیا۔

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والی جمہوریت بھارت، پاکستان کے ساتھ 2021 میں ‘آزاد حیثیت سے جزوی طور پر آزاد’ کے درجے پر گر گیا ہے۔

کارنیگی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے مدعو کیے گئے 8 ممالک بشمول پاکستان، جمہوریت کی درجہ بندی میں غیر معمولی طور پر نیچے گر گئے ہیں جبکہ 4 بشمول برازیل اور بھارت گزشتہ 10سالوں میں جمہوریت کی بلند ترین سطح سے نیچے آگئے ہیں۔

فہرست میں یورپ مدعو کیے گئے 29 ممالک کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد مغربی نصف کرہ کے 27 ممالک ہیں، اس کے ساتھ ایشیا پیسفک اور سب صحارا افریقہ کے بالترتیب 21 اور 17 ممالک شامل ہیں۔

اس کے برعکس مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ ، جنوبی اور وسطی ایشیا کے چند ممالک ہیں جنہیں مدعو کیا گیا۔

مشرق وسطیٰ میں صرف عراق اور اسرائیل، کو دعوت دی گئی جبکہ جنوبی اور وسطی ایشیا سے صرف 4 ممالک، بھارت، مالدیپ، نیپال اور پاکستان کو مدعو کیا گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button