بین الاقوامی

بحران کے بعد سعودی عرب کی اقتصادی حالت میں بہتری

کورونا وائرس نے دنیا بھر کی معیشتوں کو نقصان پہنچایا تاہم کچھ معیشتیں اس بحران میں بھی مستحکم رہیں اور ان کی اقتصادی حالت میں بہتری آئی، سعودی عرب بھی انہی میں سے ایک ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق سعودی عرب کرونا وائرس کے بحران سے اقتصادی اور سیاسی اعتبار سے زیادہ طاقتور ہو کر عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آیا ہے، تیل کے نرخوں میں بہتری نے سعودی عرب کو زیادہ خوشحال اور سیاسی اعتبار سے زیادہ طاقتور بنایا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی عرب سال 2020 کے اوائل میں کرونا بحران سے متاثر ہوا، اگرچہ وبا نے تیل کے نرخوں پر منفی اثر ڈالا تھا، تاہم گزشتہ دنوں تیل مہنگا ہونے اور سعودی تیل کی پیداوار بڑھ جانے کے باعث مملکت کی اقتصادی حیثیت بحال ہوگئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر تیل کے موجودہ نرخ برقرار رہے یعنی 80 ڈالر فی بیرل، اور سعودی عرب کی یومیہ تیل پیداوار 10 ملین بیرل جاری رہی تو اس صورت میں 2022 کے دوران مملکت کو پیٹرول سے ہونے والی مجموعی آمدنی 3 سو ارب ڈالر سے زیادہ ہوگی۔

رپورٹ میں توجہ دلائی گئی ہے کہ مذکورہ آمدنی کی بدولت سعودی عرب حالیہ برسوں کے دوران بہت اچھی پوزیشن میں آجائے گا، تیل کی اوسط پیداوار 10.7 ملین بیرل 2022 میں ہوگی، یہ اب تک مملکت کی سالانہ اوسط تیل پیداوار میں سب سے زیادہ ہوگی۔

بلومبرگ کا کہنا ہے کہ مغربی اور عرب دنیا کے موجودہ اور سابق عہدیدار، سفارتکار، مشیران، بینکار اور تیل کے ایگزیکٹیو ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ریاض کرونا بحران سے سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے زیادہ طاقتور ہو کر نکلا ہے۔

توانائی کے سابق ذمہ داران کا کہنا ہے کہ سعودی عرب تیل کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث زیادہ طاقتور پوزیشن میں ہے، دنیا کو مستقبل قریب میں سعودی پیٹرول کی زیادہ ضرورت پڑے گی۔

Related Articles

Back to top button