بین الاقوامی

28 ہزار افغان باشندوں کی درخواستوں میں سے صرف 100 کی منظوری

امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد 28 ہزار افغان شہریوں نے امریکہ میں عبوری داخلے کی درخواستیں دیں جن میں سے صرف 100 منظور کی گئیں۔ افغان باشندوں کی جانب سے درخواستیں انسانی بنیادوں پر دی گئی تھیں۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتائی ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سٹیزن شپ اور امیگریشن سروسز کے حکام درخواستوں کو نمٹانے میں نہایت مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ اسٹاف کی کمی بھی ہے۔

امریکہ میں مقیم وہ افغان خاندان جو اپنے پیاروں کو اپنے پاس بلانے کے متمنی ہیں، اس سلسلے میں سخت غم و غصے میں دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزوں کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

یہ امر بھی حیران کن ہی قرار دیا جائے گا کہ امریکی پے رول پروگرام کے تحت ہر درخواست کے ساتھ 575 ڈالرز جمع کرانے لازمی ہیں۔ اعداد و شمار کو اگر دیکھا جائے تو امریکہ نے گزشتہ چند ماہ میں صرف افغان باشندوں سے ہی ساڑھے گیارہ ملین ڈالرز کی خطیر رقم وصول کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایمیگریشن درخواستوں کو پراسیس کرنے والی امریکی ایجنسی کی ترجمان وکٹوریہ پالمر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مزید 44 اہلکاروں کو تربیت دی گئی ہے جس سے قوی امید ہے کہ کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔

وکٹوریہ پالمر کا کہنا ہے کہ جن افراد کی درخواستیں منظور کی گئی ہیں ان میں سے کئی تاحال افغانستان میں ہیں جب کہ کچھ دوسرے ممالک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق عام طور پر سالانہ دو ہزار سے کم درخواستیں موصول ہوتی ہیں جن میں سے تقریباً 500 منظور کی جاتی ہیں۔

Related Articles

Back to top button