بین الاقوامی

دہلی میں اسموگ کے باعث اسکول بند، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں فضائی آلودگی کے باعث اسموگ کی سطح بدترین ہونے پر اسکولوں اور کوئلے کے پلانٹس بند کردیے گئے جبکہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں بھی شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں بھارت کےجنوبی خطے میں فضائی آلودگی بدتر سطح پر پہنچ گئی ہے اور ان سے ملحق پاکستانی علاقوں میں بھی مسائل ہیں، جہاں صنعتی آلودگی، سیزن کی فصلوں کا بھوسہ جلانے اور سردی کی وجہ سے یہ زیریلی اسموگ کی شکل اختیار کرجاتی ہے۔

دہلی فضائی آلودگی کی وجہ سے مسلسل دنیا کا آلودہ ترین دارالحکومت ہے جہاں گزشتہ ہفتے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مقرر کردہ سطح سے 30 گنا زیادہ آلودگی ریکارڈ کی گئی تھی۔

بھارتی دارالحکومت میں حکام نے رواں ماہ کے اختتام تک اسکول بند کرنے کے احکامات جاری کیے، اس کے ساتھ ساتھ کوئلے کے 11 پاورپلانٹ بھی بند کر دیے گئے ہیں جو شہر کے اطراف میں لگائے گئے ہیں۔

یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی کوپ26 موسمیاتی کانفرنس میں بھارت میں کوئلے کے پاور پلانٹ کے حوالے سے تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔

بھارتی دارالحکومت 2 کروڑ آبادی پر مشتمل ہے جہاں اسکول بند کرتے ہوئے شہریوں پر زور دیا گیا ہے وہ گھروں سے کام کریں اور ساتھ ہی شہر میں غیر ضروری ٹرکوں کا داخلہ بھی بند کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد اسموگ کی صفائی ہے۔

دہلی میں ایئرکوالٹی منیجمنٹ کے کمشنر کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا کہ اگلے نوٹس تک شہر کے تمام تعلیمی ادارے بند رکھے جائیں۔

حکام کی جانب سے اسموگ ختم کرنے کے لیے زیادہ متاثرہ علاقوں میں اینٹی اسموگ گنز اور پانی کا چھڑکا دن میں تین مرتبہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کمیشن نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی کم ازکم نصف تعداد کو گھر بھیج دیا گیا ہے اور نجی اداروں کو بھی اس پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قبل ازیں بھارتی سپریم کورٹ نے شہر میں پہلی مرتبہ ‘آلودگی لاک ڈاؤن’ کے مطالبے پر حکومت پیچھے ہٹ گئی تھی جس کےنتیجے میں شہریوں کو گھروں تک محدود ہونا پڑے گا۔

دوسری جانب پاکستان میں بھارتی سرحد کےقریب واقع شہر لاہور بھی گزشتہ ہفتے آلودہ ترین شہر بن گیا تھا اور سوئس ادارے نے اس حوالے سے تفصیلات جاری کی تھیں۔

لاہور جہاں ایک کروڈ 10 لاکھ آبادی ہے لیکن سوئس ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق ایئر کوالٹی کے حوالے سے 348 واں نمبر ہے اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مقررہ 300 کی سطح سے کئی گنا زیادہ ہے۔

اے ایف پی کو شہری محمد سعید نے بتایا کہ بچوں کو سانس لینے میں دشواری محسوس ہو رہی تھی، اللہ کے لیے کوئی حل نکالا جائے۔

لاہور میں شہریوں نے حکومت اقدامات سے تنگ آکر عہدیداروں کے خلاف عدالتوں میں درخواستیں دائر کی تھیں اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ فضائی آلودگی ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

حکام کا موقف تھا کہ بھارت میں اسموگ کی وجہ سے لاہور میں بھی اس کے بدترین اثرات پڑتے ہیں اور شہریوں پر الزام دیا کہ وہ معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

لاہور فضائی آلودگی کے حوالے سے دنیا کے بدترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

ایک دکاندار اکرام احمد کا کہنا تھا کہ ہم غریب لوگ ہیں، ہمارےپاس تو ایک ڈاکٹر کی فیس بھی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہی درخواست کرسکتے ہیں فضائی آلودگی کو ختم کردیا جائے، ہم پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں لیکن میں نے پڑھا ہے کہ لاہور میں بدترین فضائی معیار ہے اور پھر دہلی کا نمبر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاملہ ایسے چلتا رہا تو ہم مرجائیں گے۔

مزدور سعید کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو واک کے لیے باہر جانے سے روک دیا ہے کیونکہ باہر ہوا آلودہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں فیکٹریاں اور چھوٹی صنعتیں کام کر رہی ہیں، انہیں یا تو کہیں اور منتقل کردیں، انہیں معاوضہ ادا کریں یا انہیں جدید ٹیکنالوجی فراہم کریں تاکہ ہم اس سےنجات حاصل کرسکیں۔

Related Articles

Back to top button