بین الاقوامی

بھارت نے کرتارپور راہداری 17 نومبر سے کھولنے کی اجازت دے دی

بھارت نے ہزاروں سکھ یاتریوں کو باباگرونانک کے جنم دن سے متعلق تقربیات سے قبل پاکستان آنے کے لیے سرحد کھولنے کی اجازت دے دی۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور راہداری کھولنے کی اجازت دی ہے۔

کرتارپور راہداری بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے ویزا فری سرحدی گزرگاہ ہے اور وہاں سے گزر کر وہ پاکستان میں گوردوارہ ڈیرہ صاحب آتے ہیں جہاں باباگرونانک 1539 میں انتقال کر گئے۔

راہداری کو پہلی مرتبہ 2019 میں باباگرونانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر کھول دیا گیا تھا لیکن گزشتہ برس کوروناوائرس کے باعث بند کردیا گیا تھا۔

بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا کہ جمعے کو باباگرونانک کے جنم دن کے موقع کی مناسبت ہونے والی تقریبات کے پیش نظر کرتارپور راہداری بدھ سے کھول دی جائےگی۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ‘اہم فیصلے سے بڑی تعداد میں سکھ یاتری مستفید ہوں گے، وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کرتارپور صاحب راہداری کل سے کھول دی جائے گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مجھے یقین ہے کہ کرتارپور صاحب راہداری کھولنے کے حکومتی فیصلے سے ملک بھر میں مزید خوشیاں اور جشن ہوگا’۔

پاکستانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ کرتارپور رہداری پاکستان کی طرف سے کبھی بند نہیں ہوئی تھی اور وہ بھارتی حکومت کی تصدیق کا انتظار کر رہے تھے کہ یاتریوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت ملے گی۔

کرتارپور پاکستان کے اندر واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جہاں بھارت میں مقیم سکھ برادری دہائیوں سے آنے سے محروم کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ رہتے تھے۔

باباگرونانک 1469 میں لاہور میں ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئے تھے اور دونوں مذاہب کے لیے قابل احترام ہیں اور یہاں پر ان کی جنم دن کے موقع پر لنگر کا انتظام کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 10 نومبر 2019 کو سکھ برادری کے مذہبی پیشوا باباگرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کردیا تھا۔

ضلع نارووال میں واقع کرتارپور میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم عمران خان کے علاوہ بھارت سے بھی شخصیات نے شرکت کی تھی۔

بھارت سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ امرندر سنگھ، سابق کرکٹر اور سیاستدان نووجوت سنگھ سدھو، بالی وڈ اداکار سنی دیول و دیگر سمیت ہزاروں سکھ یاتریوں نے شرکت کی اور اس موقع پر غیر ملکی سفرا، میڈیا اور ہائی کمشنرز بھی تقریب میں موجود تھے۔

بعدازاں گزشتہ برس 24 اکتوبر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کا منصوبہ فعال کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

18 نکات پر مشتمل معاہدے کے تحت 5 ہزار سکھ یاتری، انفرادی یا گروپ کی شکل میں یاتری پیدل یا سواری کے ذریعے صبح سے شام تک سال بھر ناروال میں کرتارپور آسکیں گے، حکومت پاکستان یاتریوں کی سہولت کے لیے شناختی کارڈ جاری کرے گی اور ہر یاتری سے 20 ڈالر سروس فیس وصول کی جائے گی۔

بعدازاں یکم نومبر کو وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور آنے والے یاتریوں کے لیے پاسپورٹ اور 10 روز قبل اندراج کرانے کی شرائط ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ بابا گرونانک کے 550ویں سالگرہ کے موقع پر حکومت پاکستان نے سکھ یاتریوں کو خصوصی مراعات دیتے ہوئے ایک سال کے لیے پاسپورٹ کی شرط ختم کرنے اور زائرین کی فہرست 10 روز قبل فراہم کرنے کی شرط ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ 20 ڈالر کی سروس فیس میں 9 تا 12 نومبر تک کے لیے استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔

تاہم بھارت نے سکھ یاتریوں کے جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ مراعات کو مسترد کر دیا تھا۔

Related Articles

Back to top button