بین الاقوامی

دفتری اوقات کے بعد اپنے ماتحت ملازمین کو ٹیکسٹ میسج یا ای میل کرنے پر پابندی

پرتگال نے “آرام کرنے کا حق” کے نئے قوانین کے تحت مالکان کو پابند کیا ہے کہ وہ کام کے اوقات کے بعد اپنے ماتحت ملازمین کو ٹیکسٹ میسج یا ای میل نہ کریں۔

یہ اقدام کام اور زندگی کے توازن کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کرائی جانے والی تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ 10 سے زیادہ عملہ رکھنی والی کمپنیاں اگر اپنے کنٹریکٹ کے اوقات کے باہر ملازمین سے رابطہ کرتی ہیں تو انہیں جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نئے قوانین نے بچوں کے ساتھ عملے کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دینے کے بارے میں بھی نئے اصول ہیں۔والدین کو اپنے آجر سے پیشگی منظوری لیے بغیر غیر معینہ مدت تک گھر پر کام کرنے کی اجازت دی جائے گی جب تک کہ ان کا بچہ آٹھ سال کا نہ ہو جائے۔ان قوانین کے تحت کمپنیوں کو گھر سے کام کرنے والے ملازمین کے بجلی اور انٹرنیٹ کے بلوں میں حصہ ڈالنا پڑ سکتا ہے۔

پرتگال کے وزیر محنت اور سماجی تحفظ، انا مینڈیس گوڈینو نے گزشتہ ہفتے لزبن میں ایک کانفرنس میں کہا تھا کہ “ٹیلی ورک گیم چینجر ہو سکتا ہے” لیکن اس کی ترقی کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ مزدوروں کے تحفظات میں اضافہ مزید غیر ملکیوں کو ملک کی طرف راغب کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ “ہم پرتگال کو ان ڈیجیٹل ورکرز اور دور دراز کے کارکنوں کے لیے دنیا کی بہترین جگہوں میں سے ایک سمجھتے ہیں، جس میں رہنے کا انتخاب کیا جائے، ہم انہیں پرتگال کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں۔”

پرتگال کے پاس پہلے سے ہی ایک عارضی رہائشی ویزا سکیم ہے جو کاروباری افراد اور فری لانسرز کو راغب کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ پرتگالی جزیرے مادیرا میں ایک “ڈیجیٹل خانہ بدوش گاؤں” ہے، جس میں مفت وائی فائی اور دفتری ڈیسک کی سہولیات موجود ہیں۔بارباڈوس اور کروشیا سمیت کئی دوسرے ممالک نے معیاری سیاحتی اجازت ناموں کے برخلاف “ڈیجیٹل خانہ بدوش ویزے” متعارف کرائے ہیں۔

Related Articles

Back to top button