بین الاقوامی

ایکواڈور کی جیل میں قیدیوں میں جھڑپ، 68 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی

ایکواڈور کے ساحلی شہر گیاکوئل کی جیل میں قیدیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 68 قیدی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایکواڈور کے پراسیکیوٹر آفس نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق واقعے میں 68 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ جھگڑے کا آغاز صبح 7 بجے اس وقت ہوا جب قیدیوں نے جیل کے ایک حصے میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ان جھڑپوں میں گولیوں اور دھماکا خیز مواد کا استعمال بھی کیا گیا۔

پولیس کمانڈر جنرل تانیہ ویریلا نے کہا کہ یہ واقعہ قید خانے کے اندر جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان علاقائی تنازع کی وجہ سے پیش آیا۔

صوبے گیاس کے گورنر پابلو اروسمینا نے قیدیوں کے اس غیرانسانی عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ممعاملے میں مداخلت کر کے امن و امان بحال کیا اور مزید قیدیوں کی جان ضائع نہ ہونے دی۔

جھگڑے کے دوران جیل کے دروازے کے باہر سینکڑوں لوگ جمع ہو گئے جو جیل میں قید اپنے رشتے داروں کی خیریت جاننے کے لیے بے چین تھے۔

ایکواڈور کی جیلوں میں اس سال 300 سے زیادہ قیدی مارے جا چکے ہیں کیونکہ جیل میں ہزاروں قیدی منشیات کے گروہوں سے جڑ جاتے ہیں اور ان کے درمیان پرتشدد جھڑپیں اکثر فسادات کی شکل اختیار کر جاتی ہیں۔

اس سلسلے میں رواں سال 28 ستمبر میں جیل میں بدترین جھڑپ ہوئی تھی جس میں 119 افراد مارے گئے تھے اور یہ لاطینی امریکا کی جیلوں میں پیش آنے والے بدترین واقعات میں سے ایک تھا۔

تاہم اس بدترین واقعے کے بعد پولیس کی کارروائیوں کے باوجود جیلوں میں فسادات کا سلسلہ جاری رہا اور جمعہ کو ہونے والی اس جھڑپ سے قبل بھی ایک واقعے میں مزید 15 قیدی ہلاک ہو گئے تھے۔

گیاس کی واحد جیل میں 5 ہزار 300 قیدیوں کو رکھا جا سکتا ہے لیکن اس میں گنجائش سے 60فیصد زائد ساڑھے 8 ہزار قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔

ستمبر میں جیل میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد ملک کے صدر گیلرمو لاسو نے ایکواڈور میں منشیات سے متعلق بڑھتی ہوئی بدامنی پر قابو پانے کے لیے 60 دکے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے جیلوں میں جاری ان فاسادات اور بحران سے نمٹنے کے لیے ایک نئے وزیر دفاع کے نام کا اعلان بھی کیا تھا۔

ایکواڈور میں ابتر معاشی صورتحال کے سبب حالیہ مہینوں میں تشدد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے اور اس سال جنوری اور اکتوبر کے درمیان ملک میں تقریباً 1ہزار 900 افراد قتل کر دیے گئے۔

Related Articles

Back to top button