بین الاقوامی

ویزا قوانین کی خلاف ورزی؛ میانمار کی عدالت نے امریکی صحافی کو 11سال قید کی سزا سنا دی

میانمار کی عدالت نے غیرقانونی روابط اور وابستگی، فوج کے خلاف اُکسانے اور ویزا قوانین کی خلاف ورزی پر امریکی صحافی کو 11سال قید کی سزا سنا دی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فروری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے میانمار میں آزادی صحافت بدترین دباؤ کا شکار ہے جہاں جمہوریت کے حامیوں پر کریک ڈاؤن کے خلاف آواز اٹھانے والے درجنوں صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مقامی اخبار فرنٹیئر میانمار کے لیے کام کرنے والے ڈینی فینسٹر کو مئی میں امریکا روانگی سے چند گھنٹے قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کے وکیل نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں فوج کے خلاف اکسانے، غیرقانونی روابط اور ویزا قوانین کی خلاف ورزی پر 11سال کی سزا سنائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے مؤکل نے ابھی فیصلہ نہیں کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے یا نہیں۔

رنگون کی جیل میں قید امریکی صحافی کو غداری اور دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہے اور ان الزامات کے سبب انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

فرنٹیئر میانمار نے اپنے بیان میں کہا کہ فرنٹیئر میں ہر کوئی فیصلہ پر انتہائی مایوس ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر مِنگ یو ہا نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ڈینی فینسٹر کو جلد از جلد رہا کیا جائے تاکہ وہ اپنے اہلخانہ کے پاس واپس جا سکیں۔

انہیں وزیر اطلاعات کی جانب سے فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر یہ سزا سنائی گئی اور ان الزامات میں مؤقف اپنایا گیا کہ فینسٹر کو جس وقت گرفتار کیا گیا وہ مقامی اخبار کے لیے کام کررہے ہیں حالانکہ فوج کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس اخبار کا لائسنس منسوخ کردیا گیا تھا۔

میانمار کے کرائسز گروپ کے سینئر مشیر رچرڈ ہورسے نے سزا پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سزا سے ناصرف بین الاقوامی صحافیوں بلکہ میانمار میں کام کرنے والے صحافیوں کو بھی یہ پیغام ملے گا کہ اگر درست حقائق بتائیں گے تو آپ جکو کئی سال جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سفارتکار صحافی کی سزا کے خاتمے اور انہیں اپنے ملک واپس لے جانے کے لیے کام کررہے ہیں اور امید ظاہر کی کہ یہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔

امریکی صحافی کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ دوران حراست کورونا وائرس کا بھی شکار ہو گئے تھے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا تھا کہ فینسٹر نے آخری بار آخری بار 31 اکتوبر کو فون پر امریکی قونصل خانے کے حکام سے فون پر بات کی تھی۔

واضح رہے کہ رواں سال فروری میں فوج نے حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے اقتدار سنبھال لیا تھا جس کے بعد سے ملک میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور فوج کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کے نتیجے میں 1200 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

Related Articles

Back to top button