بین الاقوامی

عالمی بینک نے افغانستان کی امداد کو بحال کرنے سے انکار کر دیا

عالمی بینک نے افغانستان کی امداد کو بحال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی بینک نے پیر کو کہا ہے کہ طالبان کے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد اگست کے آخر میں معطل کی گئی مالی امداد کو دوبارہ بحال کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان اس وقت تباہ حال معیشت سے گزر رہا ہے اور اس حال میں کام کرنے کا تصور نہیں کرسکتے۔ اس کے علاوہ طالبان کو افغانستان کے 9 ارب ڈالرز کے ذخائر کی رسائی بھی روک دی گئی ہے۔

2002 کے بعد عالمی بینک کے افغانستان میں 5.3 ارب ڈالرز کے کئی ترقیاتی منصوبے چل رہے تھے۔ عالمی بینک نےطالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان کی امداد روک دی تھی جبکہ آئی ایم ایف بھی افغانستان کی امداد معطل کرچکا ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ افراد، یا افغان آبادی کا 55 فیصد بحران کا شکار ہیں یا اگلے سال مارچ تک ہنگامی سطح پر غذائی عدم تحفظ کا سامنا کریں گے۔

نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے یہ بھی نشاندہی کی کہ رواں ہفتے ملک بھر میں جھڑپیں اور تشدد جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے انسانی حقوق کے ساتھی رضاکاروں نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ افراد، یا افغان آبادی کا 55 فیصد نومبر 2021 اور مارچ 2022 کے درمیان بحران یا ہنگامی سطح پر غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوسکتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے ساتھی ہمیں بتاتے ہیں کہ رواں ہفتے ملک بھر میں جھڑپوں اور تشدد سے شہریوں کے متاثر ہونے اور ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں‘۔

اقوام متحدہ کے مطابق یکم نومبر کو جلال آباد میں ڈی فیکٹو حکام پر فائرنگ کے نتیجے میں دو بچے ہلاک ہوئے اور 3 نومبر کو سڑک کے کنارے بم دھماکے میں دو شہری ہلاک ہوئے تھے۔

جمعرات کو افغانستان کے صوبے بامیان میں مسلح جھڑپیں رپورٹ کی گئی تھیں جس کے نتیجے میں ایک شہری سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔

 

 

 

 

Related Articles

Back to top button