بین الاقوامی

امریکہ نے 20 ماہ بعد سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا

امریکا میں کورونا وائرس کے باعث لگائی گئی سفری پابندیاں دنیا بھر کیلئے ختم کر دی گئی ہیں۔ پابندیاں ختم کرنے کے بعد سرحد پار سے ہوائی اور زمینی سفر کے ذریعے بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کی آمد متوقع ہے. رپورٹ کے مطابق امریکی ائیر لائن کو توقع ہے کہ رواں ہفتے پیر کو گزشتہ ہفتے کے 20 ہزار…

ڈیلٹا ائیرلائن کے چیف ایگزیکٹیو ایڈ بسٹین نے مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ انہیں ابتدا میں طویل قطاروں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ مرحلہ پہلے تھوڑا مشکل ہونے جارہا ہے میں آپ کو یقینی طور پر بتاسکتا ہوں کہ یہاں بد قسمتی سےقطاریں ہوں گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس مسئلے کو حل کریں گے‘۔ ڈیلٹا ائیر لائنز کے مطابق جب سے امریکا نے سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے بین الاقوامی پوائنٹ آف سیل بکنگ میں اعلان سے چھ ہفتے قبل کے مقابلے میں 450 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بھاونا پٹیل لندن سے آنے والی پرواز کے ذریعے پیر کو نیو یارک پہنچیں گی تاکہ وہ اپنے پہلے پوتے کو ایک سال بعد پہلی بار دیکھ سکیں۔

قوانین کی وجہ سے 14 روز کے دوران 33 ممالک میں سفر کرنے والے غیر امریکی شہریوں کو روک دیا گیا ہے، جن میں سرحدی کنٹرول نہ رکھنے والی یورپ کی 26 شیگین ممالک کے علاوہ چین، بھارت، جنوبی افریقہ، ایران، برازیل، برطانیہ اور آئر لینڈ شامل ہیں۔

امریکی ائیر لائن یورپ اور سفری پابندی کے باعث متاثر ہونے والے دیگر مقامات پر پروازوں کو فروغ دے رہی ہے، ائیر لائن نے پیر کو کچھ ابتدائی فلائٹس سے قبل ایگزیکٹیو اجلاس میں تقریب کا منصوبہ بنایا تھا۔

سیکریٹری تجارت گینا ریموندو اور امریکی ائیر لائن کے صدر برٹ ہارٹ نے شکاگو کے اوہیئر بین الاقوامی ائیر پورٹ پر ایک تقریب منعقد کی اور ایسے سفر دوبارہ کھولنے سے منسوب کیا۔ ائیر لائن امریکا آنے والے بین الاقوامی مسافروں کی ویکسین کی دستاویزات چیک کرے گی جیساکہ وہ حال ہی میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج کی جانچ کر رہے تھے۔

زمینی سفر کے ذریعے سرحد پار کرنے والےمسافروں سے کسٹم اور امریکی سرحد کے محافظ ویکسی نیشن کے بارے پوچھ پڑتال کریں گے جبکہ اس ہی مقام پر کچھ دستاویزات بھی دیکھی جائیں گی۔ 18 سال سے کم عمر بچے نئی ویکسین کی شرط سے مستثنیٰ ہیں، تاہم دنیا بھر کے 50 ممالک جہاں ویکسین کی شرح 10 فیصد سے کم ہے انہیں بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button