بین الاقوامی

ایتھوپیا کی وزرا کونسل نے ملک بھر میں فوری طور پر ہنگامی حالات کا نفاذ کردیا

ایتھوپیا کی وزرا کونسل نے ملک بھر میں فوری طور پر ہنگامی حالات کا نفاذ کردیا کردیا جبکہ باغیوں نے دعویٰ کیا ہےکہ وہ دارالحکومت ادیس ابابا کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کےمطابق ایتھوپیا کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ہنگامی حالت نافذ کرنے کا مقصد عوام کو دہشت گرد گروپ ٹیگرے پیپلزلیبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) سے تحفظ دینا ہے، جن کی جانب سے ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کیا جارہا ہے۔

ایتھوپیا کی حکومت نے یہ فیصلہ شمالی ٹیگرے میں جنگجووں کے اس دعوے کے بعد کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ احمارا کے قریبی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل قصبے ڈیسی اور کومبولچا پر قبضہ کرلیا ہے۔

ٹیگرے جنگجو نے گزشتہ کئی برسوں سے وفاقی حکومتکے خلاف لڑ رہے ہیں اور عندیہ دیا تھا کہ وہ دارالحکومت ادیس ابابا کے جنوب کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔

حکومت کا کہنا تھا کہ فوج دونوں اہم علاقوں پر قبضے کے لیے لڑ رہی ہے جو ادیس بابا سے 400 کلو میٹر دور واقع ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایتھوپیا کے شمالی علاقوں میں مواصلات کا بند ہے اور صحافیوں کو بھی محدود کردیا گیا، جس کی وجہ سے لڑائی سے متعلق دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔

اس سے قبل ادیس ابابا میں حکام نے عوام سے کہا تھا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کو اگلے دو دنوں میں رجسٹر کروائیں اور شہر کی حفاظت کے لیے تیار رہیں۔

ایتھوپیا کے وزیراعظم آبی احمد نومبر 2020 میں ٹیگرے میں فوج بھیجی تھی، جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹی پی ایل ایف کی جانب سے فوجی کے کیمپوں پر حملے کیے جارہے ہیں۔

دوسری جانب ٹی پی ایل ایف کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور اریٹیریا سمیت اس کے اتحادیوں نے ان کے خلاف منظم حملے شروع کردیے ہیں۔

وزیراعظم آبی احمد نے فتح حاصل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ٹیگرے جنگجو دوبارہ یکجا ہوگئے اور اکثر علاقوں پر قبضہ کرلیا، جس کے بعد لڑائی قریبی علاقوں ایفار اور امہارا تک پھیل گئی۔

الجزیرہ کے مطابق افریقی ممالک کے امریکا کے نمائندہ خصوصی جیفری فیلٹ مین نے جنگ کی توسیع کی مذمت کی۔

امریکی نمائندے کا کہنا تھا کہ ہم نے مسلسل ٹی پی ایل ایف کی جانب سے لڑائی کو ٹیگرے سے باہر پھیلانے کی مذمت کی ہے اور ہم ٹی پی ایل ایف سے بدستور مطالبہ کرتےہیں کہ وہ ایفار اور امہارا سے دستبردار ہوجائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے امکانات تھے کیونکہ ایتھوپیا کی حکومت نے جون میں ٹیگرے میں انسانی بنیاد پر امداد اور تجارتی سرگرمیاں معطل کردی تھیں جو اب تک جاری ہیں حالانکہ تشویش ناک حالات کی خبریں آرہی تھیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس جنگ نے انسانی بحرانی پیدا کردیا ہےجہاں لاکھوں لوگ قحط کی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں اور 25 لاکھ سے زائد لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں۔

Related Articles

Back to top button