بین الاقوامی

اسرائیل کی جانب سے دمشق کے مضافات پر میزائل داغے گئے، شامی حکام

شام کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے دمشق کے مضافات میں راکٹ داغے گئے، جس کے نتیجے میں دوفوجی زخمی ہوئے۔ خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق شام کے سرکاری میڈیا نے نام ظاہر کیے بغیر فوجی عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شام کی فضائیہ نے اسرائیل سے داغے گئے میزائلوں کا بھرپور…

سرکاری خبر ایجنسی نے فوجی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ایئر دیفنس نے اسرائیل کے شمالی علاقوں سے آنے والے کئی میزائلوں کو کامیابی سے گرایا تاہم اس سے نقصان ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے شام پر اس طرح کے حملے اکثر رات وقت کیے جاتے ہیں تاہم فوجی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ یہ حملہ دوپہر کو کیا گیا۔

انسانی حقوق کے برطانوی ادارے اور شام کی اپوزیشن کی جانب جنگی جرائم کی کھوج لگانے والے ادارے کا کہنا تھا کہ اسرائیلی میزائل دمشق کے شمال مغربی علاقے پر گرے۔

انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں لبنان کے گروپ حزب اللہ کے اسلحےکےڈپو ہیں، اس کے علاوہ شامی فوج کی تنصیبات اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا بھی موجود ہے۔

اسرائیل کے تازہ حملے سے قبل شام نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں جنوبی علاقے میں اسرائیل حملے کر رہا ہے تاہم اس کی تفصیلات جاری نہیں کی تھیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل اس سے قبل بھی شام کے مختلف علاقوں پر اس طرح کے حملے ہوتے رہے ہیں لیکن اسرائیل بہت کم ذمہ داری قبول کرتا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے، جن میں لبنان کا مضبوط گروپ حزب اللہ بھی شامل ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ شام میں خانہ جنگی کا سامنا کرنے والے صدر بشارالاسد کی فورسز کی مدد کر رہی ہے۔

یاد رہے نومبر 2019 میں اسرائیل کے جنگی طیاروں نے شام میں بمباری کی تھی، جس کےنتیجے میں 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ روز اسرائیل پر 4 راکٹ حملوں کے ردعمل میں اس نے ایرانی القدس فورس اور شامی فوج پر درجنوں فضائی حملے کیے ہیں۔

Related Articles

Back to top button