بین الاقوامی

اردوان یورپی ممالک کے سفرا کو بے دخل کرنے کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے

ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک مشترکہ بیان میں جیل میں موجود سماجی رہنما کی حمایت کے بعد 10 مغربی سفرا کو ملک سے بے دخل کرنے کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے۔

ترک صدر کا یہ بیان مسئلے پر امریکا سمیت کئی متعلقہ ممالک کے اسی طرح کے بیانات کے بعد سامنے آیا کہ وہ اقوام متحدہ کے اس کنونشن کا احترام کرتے ہیں جس کے تحت سفارتکار، میزبان ملک کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتے۔

اردوان نے اپنے نئے بیان میں کہا کہ ’بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہمارے ملک کے خلاف اپنے بہتان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور اب مزید محتاط رہیں گے‘۔

رجب طیب اردوان کے دھمکی سے پیچھے ہٹنے کے بعد ترک لیرا تاریخ کی کم ترین سطح سے واپس اوپر آگیا اور ترکی اور مغرب کے تعلقات واپس بہتری کی جانب آچکے ہیں جو ترک صدر کی دھمکی کے بعد ان کے 19 سالہ اقتدار کے سنجیدہ ترین سفارتی بحران کا باعث بن رہے تھے۔

مغربی ممالک اور ترکی کے درمیان جزوی تعطل گزشتہ ہفتے امریکا، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے اور سوئیڈن کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا تھا کہ گرفتار سماجی کارکن عثمان کافالا کے کیس کو جلد از جلد حل کیا جائے۔

64 سالہ سماجی رہنما اور تاجر عثمان کافالا کو بغیر جرم ثابت ہوئے چار سال قبل جیل بھیج دیا گیا تھا۔

حامی عثمان کافالا کو 2016 میں فوجی بغاوت سے بچنے کے بعد رجب طیب اردوان کی بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تاہم رجب طیب اردوان، عثمان کافالا پر 2013 کے حکومت مخالف احتجاج کی مالی معاونت کرنے اور 2016 میں فوجی بغاوت کے اہم کردار ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

ترک صدر نے بحران سے متعلق اجلاس کی صدارت کے بعد کہا تھا کہ ’بطور سربراہ مملکت ان کی ذمہ داری ہے کہ ترکی کے خود مختار حقوق کی بیرونی خلاف ورزیوں کا جواب دیں‘۔

رجب طیب اردوان نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا تھا کہ ’ترک عدلیہ کسی سے احکامات لیتی ہے نہ ہی وہ کسی کی کمانڈ کے ماتحت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہماری یہ ہرگز خواہش نہیں ہے کہ بحران پیدا کیا جائے لیکن ہم اپنے حقوق، قوانین، اعزاز، مفاد اور حق خود مختاری کی حفاظت کریں گے۔

Related Articles

Back to top button