بین الاقوامی

روس کی کیمیائی مواد کی فیکٹری میں آتشزدگی، 15 افراد ہلاک

روس کے دارالحکومت ماسکو کے قریب قائم دھماکا خیز اور کیمیائی مواد کی فیکٹری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور ایک شخص لاپتا ہو گیا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے حکام کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ماسکو سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر قائم قصبے ریازن میں فیکٹری میں آتشزدگی کے باعث تمام ہلاکتیں ہوئیں جبکہ ایک شخص کے بارے میں معلومات نہ مل سکیں کیونکہ وہ دھماکے کے بعد سے لاپتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں بری طرح جھلسنے والے ایک شخص کو ہسپتال میں بھی داخل کرایا گیا ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔

وزارت ایمرجنسی کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ روس کی حکومت کی جانب سے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل تصور کی جانے والی ایلاسٹک فیکٹری میں ممکنہ طور پر تکنیکی عمل اور حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں آگ لگ سکتی ہے۔

لیکن مقامی میڈیا نے کہا کہ یہ کمپنی 2015 میں دیوالیہ ہو گئی تھی اور اس کی ورکشاپس کو دھماکا خیز مواد رکھنے کے لیے دیگر کمپنیاں استعمال کرتی تھیں۔

وزارت ایمرجنسی نے بتایا کہ فائر فائٹرز کو سب سے پہلے صبح آٹھ بج کر 22 منٹ پر پلانٹ میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی جس کے بعد قائم مقام سربراہ واقعے کی جگہ کی جانب روانہ ہو گئے تھے۔

سنگین جرائم کی تحقیقات کرنے والی روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے کہا کہ انہوں نے تحقیقات کے لیے تفتیشی افسران کو بھیجا ہے تاکہ اس بات کا پتا لگایا جا سکے کہ فیکٹری میں صنعتی حفاظتی عمل کی تعمیل ہو رہی تھی یا نہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ علاقے میں 170 سے زائد ریسکیو رضاکار کام کر رہے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے سربراہ نے تاس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جب آگ لگی تو ورکشاپ میں 17 مزدور موجود تھے۔

حکام نے بتایا کہ 160 مربع میٹر کے رقبے پر لگی اس آگ کو بجھا دیا گیا ہے اور اب اس سے مقامی لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

روس میں آگ لگنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جہاں خستہ حال انفرا اسٹرکچر اور حفاظتی معیارات کی تعمیل نہ کرنے کی وجہ سے ہر سال سیکڑوں واقعات رونما ہوتے ہیں۔

اس سے قبل 2018 میں سائبیریا کے شہر کیمروو کے ایک شاپنگ سینٹر میں آتشزدگی کے باعث 41 بچوں سمیت 64 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام نے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں سیکڑوں تجارتی اور ثقافتی مقامات آگ سے بچاؤ کے لیے انتظامات اور معیار انتہائی ناقص ہیں جہاں ناقدین اس کی وجہ حکومتی افسران کی رشوت خوری اور نااہلی کو قرار دیتے رہے ہیں۔

حکومتی ناقدین کا کہنا تھا کہ بدعنوانی حفاظتی قواعد کا مرکز ہے جس کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کی جا رہی ہے کیونکہ عہدیدار رشوت کے عوض عمارت کی تعمیر کے اجازت نامے دیتے ہیں۔

گزشتہ سال دسمبر میں بشکورتوستان کے علاقے میں ایک ریٹائرمنٹ ہوم میں آگ لگنے سے 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

رواں سال اپریل میں سینٹ پیٹرز برگ کی ایک تاریخی فیکٹری میں آگ لگی تھی اور آتشزدگی کے بعد تفتیش کاروں نے کہا کہ اس فیکٹری میں حفاظتی معیار کی متعدد خلاف ورزیاں کی گئی تھیں اور اس حوالے سے متعدد مرتبہ خبردار کیے جانے کے باوجود انتظامیہ نے کام جاری رکھا ہوا تھا۔

Related Articles

Back to top button