بین الاقوامی

صدر بائیڈن نے چین کے خلاف تائیوان کے دفاع کا اعلان

چین اور امریکا میں تناؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، صدر بائیڈن نے چین کے خلاف تائیوان کے دفاع کا اعلان کر دیا۔امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکا چین کے ساتھ سرد جنگ نہیں چاہتا تاہم امریکا تائیوان کے معاملے پر نہ ہی پیچھے ہٹے گا اور نہ ہی اپنے نظریات کو بدلے گا ۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکا تائیوان کا بھرپور دفاع کرے گا کیوں کہ امریکا ایسا کرنے کا پابند ہے جبکہ چین اور روس سمیت پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکا کے پاس سب سے زیادہ طاقت ور فوجی قوت ہے۔
دو ہفتے قبل چینی صدر نے تائیوان کودوبارہ اپنا حصہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ مادر وطن کے مکمل اتحاد کا تاریخی فریضہ پورا ہونا چاہیے ، اور یقینی طور پر پورا کیا جائے گا۔ بیجنگ نے اتحاد کے حصول کے لیے طاقت کے ممکنہ استعمال کو مسترد نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تائیوان کو دوبارہ اپنا حصہ بنانے کا عمل پرامن طریقے سے ہو گا۔ جزیرے کی قسمت کا فیصلہ وہاں کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔

واضح رہے کہ تائیوان خود کو ایک الگ اور خودمختار ریاست کہلاتا ہے جبکہ چین کا دعویٰ ہے کہ تائیوان چین کا ایک صوبہ ہے۔

چین نے حالیہ دنوں میں تائیوان کے ایئر ڈیفنس زون میں ریکارڈ تعداد میں فوجی جیٹ بھیجے تھے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تائیوان کے قومی دن سے قبل پروازوں کو تائیوان کے صدر کے لیے انتباہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button